یہ بدلیں گے پاکستان کے حالات ۔۔۔؟ سندھ حکومت مستحقین کے لیے جاری 1 ارب 45 کروڑ روپے ہڑپ گئی ، کشکول کا طعنہ دینے والوں کی شامت آ گئی

سکھر(نیوز ڈیسک)قومی احتساب بیورو (نیب) نے سندھ حکومت کی ٹریکٹر اسکیم کی مد میں کرپشن کی تحقیقات شروع کر دیں۔نیب ذرایع کے مطابق سندھ بینک سے جاری کردہ ٹریکٹرز کے سلسلے میں مستحقین کے ساتھ فراڈ کیا گیا، مستحقین کو ٹریکٹر مل ہی نہیں سکے ہیں، جس کی تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

نیب کی کمیٹی نے تحقیقات کے سلسلے میں سیکڑوں لوگ طلب کر لیے ہیں، ذرایع کا کہنا ہے کہ سکھر سے تعلق رکھنے والے سیکڑوں افراد کو ٹریکٹرز نہ ملنے کا انکشاف ہونے کے بعد ان سے پوچھ گچھ کا فیصلہ کیا گیا ہے۔نیب ذرایع نے بتایا کہ سادہ لوگ بنا ٹریکٹر حاصل کیے پیشیاں بھگتنے پر مجبور ہیں، متاثرہ افراد کا کہنا ہے کہ انھوں نے کبھی ٹریکٹر لینے کی درخواست ہی نہیں دی تھی، ان کے ساتھ فراڈ ہوا ہے، اس لیے انھیں انصاف فراہم کیا جائے۔ادھر ذرایع نے کہا ہے کہ سندھ بینک سے ٹریکٹرز مستحق افراد کے نام پر جاری کرائے گئے تھے۔یاد رہے کہ سندھ میں زرعی پیداوار کو بڑھانے کے لیے 2016 میں سندھ حکومت کی جانب سے 2009 سے جاری ٹریکٹر سبسڈی اسکیم کے تحت 3 ہزار ٹریکٹرز کی تقسیم کا اعلان کیا گیا تھا۔ اگلے برس جون 2017 میں حکومت سندھ نے خود انکشاف کیا کہ صوبے میں ٹریکٹر اسکیم میں سبسڈی پر بہت بڑا فراڈ کیا گیا ہے، اس وقت کے وزیر اطلاعات ناصر حسین شاہ نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ ٹریکٹر اسکیم میں 1 ارب 45 کروڑ روپے کی کرپشن ہوئی ہے۔ جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب نے کہا ہے کہ حکومت نے بجلی سستی کرنے پر توجہ مرکوز کر لی ہے، پاور سیکٹر میں اصلاحات کے لیے حکومت کو 3 ہفتے درکار ہیں۔اے آر وائی نیوز کے مطابق عمر ایوب نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سابقہ حکومتوں نے توانائی کے شعبے کے مسائل پر توجہ نہیں دی، اب شعبے میں اصلاحات لائی جا رہی ہیں، آئندہ 3 ہفتوں میں پاور سیکٹر کی مزید تفصیلات پیش کریں گے۔انھوں نے بتایا کہ حکومت کے آئی پی پیز کے ساتھ معاہدے طے پائے ہیں، اور وسیع تر ملکی مفاد میں ہم آہنگی کے ساتھ معاملات طے کیے گئے ہیں، ان نئے معاہدوں سے گردشی قرضوں میں کمی آئے گی اور صنعتوں کو فروغ ملے گا۔عمر ایوب کا کہنا تھا کہ حکومت نے 2002 اور 2006 کے معاہدوں پر نظرثانی کی ہے، پاور سیکٹر میں مسائل ہمیں ورثے میں ملے، سابقہ حکومت کی غلط پالیسی کی وجہ سے پاور گیس سیکٹر ٹھیک کرنا ہے، ماضی کی حکومتیں غیر سنجیدہ تھیں، ہم بلوچستان کی ترقی اور خوش حالی کے لیے بھی اقدامات کرنے والے ہیں۔وزیر توانائی نے کہا بجلی کی پیداوار کی لاگت اور ترسیل میں اصلاحات کی جا رہی ہیں، اس کے نتیجے میں صارفین کو سستی بجلی فراہم ہوگی، حکومت کے بجلی پیداواری اداروں سے معاملات طے ہو رہے ہیں، زرعی شعبے اور چھوٹی صنعتوں کی بہتری کے لیے بجلی سستی کرنے پر توجہ مرکوز کی ہے، بجلی سستی ہوگی تو پیداواری لاگت کم ہو سکے گی۔انھوں نے مزید کہا کہ سابقہ حکومتوں نے فیول مکس متاثر کیا، کل فیول مکس کا 70 فی صد مہنگی فیول کی طرف تھا، اس لیے مہنگے فیول سے بجلی بھی مہنگی بن رہی تھی۔

Sharing is caring!

Comments are closed.