پاک فوج اور پاکستانی سائنسدانوں نے ایٹمی تجربات کے لیے چاغی میں گرینائٹ کے پہاڑوں کا ہی انتخاب کیوں کیا ؟ معلومات سے بھر پور ایک خصوصی تحریر

لاہور (نیوز ڈیسک) 1976 میں جی ایچ کیو سے 5th کور کوئٹہ کے بریگیڈیئر سرفراز کو پیغام ملا کہ پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے ڈاکٹر اشفاق احمد اور ڈاکٹر ثمر مبارک مند پر مشتمل سائنس دانوں کی ایک ٹیم بلوچستان کے کچھ حصوں کا سروے کرنے کیلئے کوئٹہ پہنچ رہی ہے، ان کے لئے ہیلی کاپٹر

اور سکیورٹی کا مناسب بندوبست کیا جائے۔نامور کالم نگار منیر احمد بلوچ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ اس ٹیم نے ایٹمی تجربات کے لئے زیر زمین سرنگیں کھودنے کیلئے مناسب جگہ کی نشاندہی کرنے کیلئے تین دن کئی کئی گھنٹے‘ بغیر آرام کیے آواران، خضدار اور خاران کا زمینی اور فضائی جائزہ لیا اور بالآخر چاغی کے کوہِ راس میں 185 میٹر بلند گرینائٹ کے پہاڑوں میں جگہ کا انتخاب کیا۔ ڈاکٹر اشفاق کی ٹیم کا دوسرا ٹاسک اس علاقے کا Verticle سروے تھا جس پر ایک سال لگ گیا، اب سرنگ کھودنے کے لئے ایسے پہاڑی سلسلے کا انتخاب درپیش تھا جو کم ازکم 700 فٹ تک بلند پہاڑ ہو کیونکہ 20 کلو ٹن ایٹمی مواد کا تجربہ کیا جانا تھا۔افواجِ پاکستان کے مایہ ناز انجینئرز 1979ء میں اس مقصد کے لئے 3325 فٹ طویل Fish hook سے مشابہ سرنگ کھودنے میں کامیاب ہو گئے جو 8 فٹ ڈائیا میٹر کی تھی جبکہ خاران میں جو دوسری سرنگ کھودی گئی وہ 200×300 فٹ کی L شکل میں تھی۔ اب یہ سب کام جنرل ضیاء الحق کی نگرانی میں پاک فوج کا ایک ”سپیشل ڈویلپمنٹ ورکس‘‘ یونٹ کر رہا تھا جس کے ذمہ پہاڑوں میں زیر زمین عمودی اور افقی دو اقسام کی ٹیسٹ سائٹس تیار کرنا تھا، جنہیں صرف سات دن کے نوٹس پر ایٹمی تجربوں کیلئے استعمال کیا جا سکے‘‘۔ (بحوالہ ڈیفنس نوٹس‘ تحریر: رائے محمد صالح اعظم)بہت سی باتیں ایسی ہیں‘ جو احاطہ تحریر میں نہیں لا سکتا، وگرنہ وہ بھی آئینے کی صورت میں شہباز شریف کے سامنے رکھ دیتا تاکہ ان کی اور ان کے ساتھیوں کی جانب سے آئے روز ایٹمی ہتھیار کی تیاری کے حوالے سے کیے جانے والے بے بنیاد دعووں کے پول کھول سکتا۔ اگر وہ پھر بھی بضد ہیں تو بس اتنا سنتے جائیں کہ مارچ 1984ء میں جب ”آمر اور جمہوریت دشمن جنرل ضیاء الحق‘‘ کی حکومت تھی، پاکستان ایٹمی تجربوں کا ایک کولڈ ٹیسٹ کر چکا تھا۔جناب شہباز شریف نے چھ اگست کو آزاد کشمیر اسمبلی میں مسلم لیگ نواز کے حکومتی وزراء کی معیت میں کھڑے ہو کر بھارت کی دلجوئی کی خاطر اپنے مخصوص انداز میں میز پر ہمیشہ کی طرح ایک زبردست مکا مارتے ہوئے کہا کہ ”جادو ٹونے اور لمبی لمبی چھوڑنے سے کشمیر آزاد نہیں ہو تا‘‘ بالکل درست فرمایا ہے کیونکہ 1985ء سے 2018ء تک آپ نے کشمیر کی آزادی کے لئے لمبی لمبی چھوڑنے کے بجائے ہمیشہ کے لئے یہ قصہ تمام کرتے ہوئے پاکستان اور بھارت کی سرحدوں کو فقط لکیر کا نام دیا۔ آپ نے تو کہہ دیا کہ ہم میں اور ”ان‘‘ میں کوئی فرق ہی نہیں… تو جناب فرق کیوں نہیں؟ ہم گائے کا گوشت کھانے والے ہیں اور وہ گائو موتر پینے والے۔ اب آپ ہی فیصلہ کیجئے گائے کا گوشت کھانے والے اور اس کا موتر پینے والے دونوں برابر ہو سکتے ہیں؟

Sharing is caring!

Comments are closed.