اہم ترین مسلم ملک میں اسلامی نظام حکومت کو الوداع کہہ دیا گیا

خرطوم (نیوز ڈیسک) اسلامی ملک سوڈان میں 30 سالہ اسلامی طرز حکمرانی کا خاتمہ، مذہب کو ریاستی معاملات سے الگ کرنے کا قانون منظور کر لیا گیا، شمالی افریقی ملک کی حکومت نے اعلامیہ جاری کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق افریقی اسلامی ملک سوڈان نے طویل 3 دہائیوں بعد سیکولر نظام حکومت متعارف کروانے کا فیصلہ کیا ہے۔ بلوم برگ کی رپورٹ

کے مطابق شمالی افریقی ملک سوڈان کے اسٹیک ہولڈرز نے تیس سالہ اسلامی قانون کوتبدیل کر دیا ہے۔سوڈان میں مذہب کو ریاستی معاملات سےالگ کر دیا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ سوڈان کے وزیراعظم عبداللہ ہمدوک، آزادی کی تحریک چلانے والی تنظیم اور شمالی باغی گروپ کے رہنما عبد العزیز الہیلو نے ایک ہفتے تک اس حوالے سے مذاکرات کیے۔اب ان اسٹیک ہولڈرز نے ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے ہیں جس کے مطابق سوڈان میں اب سیکولر نظام حکومت قائم ہوگا۔مذہب کا ریاستی معاملات میں کوئی عمل دخل نہیں ہوگا۔ جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ سوڈان کے لئے ایک جمہوری ملک بننے کے لئے جہاں تمام شہریوں کے حقوق کو مدنظر رکھنا چاہیئے، وہاں لازم ہے کہ ملک کے دستور میں مذہب کا عمل دخل نہ ہو۔ سوڈان کی عبوری حکومت نے ملک کی باغی قوتوں کے ساتھ بھی امن قائم کرنے کی کوششیں شروع کی ہیں۔ کوشش کی جا رہی ہیں کہ باغی گروپ سیکولر نظام حکومت کے قیام کے فیصلے پر اتفاق کر کے معاہدے پر دستخط کر دیں۔واضح رہے کہ افریقی اسلامی ملک سوڈان بین الاقوامی تنہائی سے ابھر رہا ہے۔ 1989 میں آمر بشیر کے اقتدار پر قبضہ کرنے کے بعد یہ افریقی اسلامی ملک بین الاقوامی تنہائی کا شکار ہوگیا تھا۔ سوڈان کے سابق آمر نے ملک کو “اسلامی دنیا کا محافظ” بنانے کی کوشش کی تھی جس کے بعد اس ملک پر شدت پسندی کو فروغ دینے کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔ امریکا اور اس کے اتحادی ممالک نے سوڈان پر دہشت گرد تنظیموں کی پناہ گاہ بننے کا الزام عائد کرنے کے بعد اس پر عالمی پابندیاں عائد کر دی تھیں، جو 2017 تک برقرار رہیں۔ ان پابندیوں کے باعث سوڈان کی معیشت مکمل طور پر تباہ ہوگئی۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *