انڈیا انڈیا کردی نی میں آپے انڈیا ہوئی : (ن) لیگی رہنما احسن اقبال کی عمران خان پر تنقید کی اصل وجہ کیا ؟ تانے بانے بھارت سے جا کر ملنے لگے، دنگ کر ڈالنے والے انکشافات

”لاہور (نیوز ڈیسک) یومِ استحصال کے نام پر ریلیوں اور تقریروں میں بھارت میں انسانی حقوق کی پامالی کی بات کرنے سے پہلے پاکستان کو اپنا دامن دیکھنا چاہئے کیا وہ بلوچ نوجوانوں، پشتون تحفظ موومنٹ اورصحافیوں کے لاپتہ ہونے میں ملوث نہیں؟‘‘ نجی ٹی وی کی سکرین پر یہ ٹکرز دیکھتے ہوئے سوچا یا تو

نامور کالم نگار منیر احمد بلوچ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔لندن، امریکہ اور جرمنی میں بیٹھے ہوئے کسی ٹولے کا کوئی رکن ہو سکتا ہے یا پھر یہ امیت شا اور راج ناتھ جیسے مسلم دشمن بھارتی وزیر یا پھر انڈین آرمی کے کسی جنرل کی طرف سے پاکستان کے اقدامات سے بدحواس ہو کر جوابی گولے داغے جا رہے ہیں لیکن جب ان ٹکرز کے ساتھ بلاول بھٹو زرداری کا نام دیکھا تو یقین ہی نہ آیا کہ ہمارے سیا سی قائدین‘ عمران دشمنی میں اس حد تک بھی جا سکتے ہیں۔ ایک ٹولے کا تو سب کو علم ہے کہ وہ مودی اور بھارت کے چیف آف ڈیفنس جنرل بپن راوت اور اجیت دوول سے دھڑلے سے ملتا اور بڑے فخر سے میڈیا کو ان ملاقاتوں کی تصاویر بھی جاری کرتا ہے۔ اس ٹولے کے لوگ ایک سابق صدر کے کس قدر انتہائی معتمد اور رازدان تھے، یہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ بد قسمتی کہہ لیجئے کہ عمران دشمنی میں ہماری اپوزیشن کا ایک حصہ اس حد تک بھارت نواز ہو جاتا ہے کہ بھارت کے وزیر خارجہ کا رول ادا کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی کے ایک پالیسی بیان پر عربی میں ٹویٹ کر کے سعودی حکومت کو بھڑکانے کی کوشش سے بھی باز نہیں آتا۔ اس ٹویٹ کو بھارت نے اپنے حق میں استعمال کرتے ہوئے میڈیا پر ایک طوفان اٹھائے رکھا ہے۔ میرا اندازہ ہے کہ یہ سب ایسے ہی نہیں ہوتا بلکہ با قاعدہ پلاننگ کے تحت کیا جاتا ہے کیونکہ کیسے ہو سکتا کہ احسن اقبال جیسا شخص کسی حکم کے بغیر یہ ٹویٹ کرے؟

ماضی میں جھانکیں تو اپوزیشن کے ایک صاحب ببانگ دہل اعلان کرتے رہے ہیں کہ اگر کالا باغ ڈیم بنایا گیا تو وہ ا سے اڑا دیں گے۔ ایک اور صاحب اسلام آباد میں کھڑے ہو کرآدھا بلوچستان، کے پی اور پنجاب کے اٹک اور بھکر تک کے حصے کو پاکستان سے الگ کر کے” افغانیہ‘‘ کے نام سے ایک الگ ریا ست بنانے کا پہلے ہی اعلان کر چکے ہیں۔ اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس میں ایک تیسرے صاحب نے کہا ”کیسا کشمیر؟ آپ نے آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان پر قبضہ کر رکھا ہے تو اسی طرح بھارت نے کیا ہوا ہے‘‘۔ ایک بڑی سیاسی جماعت کی لیڈر شپ کہتی ہے کہ انڈیا اور مودی سے جھگڑا کیسا؟ بارڈر تو بس ایک لکیر کا نام ہے۔ اسی پارٹی کے مرکزی لیڈر کہیں چھپ کر نہیں بلکہ قومی اسمبلی کے فلور پر بڑے دھڑلے سے کہتے ہیں ”کسی مذہب کو کسی دوسرے مذہب پر کوئی فوقیت نہیں‘‘ توبہ نعوذباللہ… اور مزے کی بات یہ ہے کسی نے بھی ان کے خلاف مقدمہ درج نہیں کرایا اور نہ ہی کسی اتھارٹی نے اس کا نوٹس لیا ہے۔ محترم بلاول بھٹو شاید بھول چکے ہیں کہ جب CAA (Citizenship Amendment Act) کے ڈریکونین قانون کے خلاف دہلی میں مسلمانوں نے احتجاج کیا تو مودی سرکار نے آر ایس ایس کے غنڈوں کو پولیس کی وردیاں پہنا کر مسلم آبادیوں پر اٹیک کرائے تھے۔ یہ مقام افسوس ہے، اپوزیشن اقتدار چھن جانے پر اس قدر بھارت نواز ہو جائے گی‘ اس کا تو کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔ یہ لوگ اپنے وطن کو دنیا کے سامنے ایک دہشت گرد ریاست کے طو رپر پیش کرکے نجانے کن قوتوں کوخوش کرنا چاہتے ہیں۔ یاد رکھیے‘ عمران خان صرف ایک نام ہے‘ وہ پاکستان نہیں‘ پاکستان تو اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا نام ہے‘ پاکستان تو بائیس کروڑ توحید پرستوں کی بستی ہے جس میں کل تک عمران خان جیسے بے شمار حکمران آئے اور چلے گئے۔ اس کے با وجود ان کو ذرا خیال نہ آیا کہ ہم پاکستان کو انسانی حقوق کا دشمن ثابت کرکے خود اپنی جگ ہنسائی کا سامان کر رہے ہیں۔

Sharing is caring!

Comments are closed.