پاکستانیو: گھبرانا نہیں ۔۔۔!!! وزیراعظم عمران خان ٹھیک کہتا تھا ، اچھی خبریں آنا شروع ۔۔۔

لاہور (ویب ڈیسک) کورونا وبا کے عالمی بحران کو کم سے کم انسانی و معاشی نقصان کے لئے اسمارٹ مینجمنٹ کرنے والے پانچ کامیاب ترین ممالک میں پاکستان چوتھے نمبر پر ہے، جو عمران حکومت کی پہلی اور نتیجہ خیز کامیابی ہے۔ بلاشبہ یہ ایسی کامیابی ہے جس نے گندم، چینی، پٹرول اور نہ جانے کون کون سے

مافیا کو قابو کرنے میں مکمل ناکامی پر اس کامیابی کو حاوی کر دیا ہے۔ نامور کالم نگار ڈاکٹر مجاہد منصوری اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔اگر عمران نے اپنی حکومتی اپروچ سے کوئی شفاف اور اہل کابینہ اور صوبائی سیٹ اپ تشکیل دے لیا تو یقیناً ملک اور عوام کا بھلا ہوگا۔حکومت کو ہر حال میں اشیائے خورونوش کے دس بارہ بنیادی استعمال کے آئٹمز کی قیمتوں اور آسان دستیابی میں استحکام پیدا کرنا ہے۔ سستی ٹرانسپورٹ عام کر دی اور بجلی کے مسلسل بڑھتے نرخوں پر قابو پالیا اور پبلک اسپتالوں میں علاج معالجے کی سہولتوں میں وسعت پیدا کر دی تو پھر وہ بڑے دور رس نتائج کے حامل ترقیاتی اہداف حاصل کرنے پر فوکس کرنے میں کامیاب ہو جائے گی۔ باقی دوست اور قریبی ممالک کے باہمی مفاد اور اشتراک میں ہم آہنگی کی برکات سے یکدم خوشحالی کے گراف میں تیزی تو یقینی ہو گئی۔خارجہ پالیسی کی روایتی سوچ میں بڑی حیران کن تبدیلی بھی بڑے نتائج دے گی۔ مملکت خدا داد پر یہ اللہ کا خاص فضل وکرم ہےکہ بھارت جو اپنی بڑھتی غربت اور برباد ہوتی معیشت پر ہمیں تنہا اور کمزور کرنے پر 6سال سے فوکس کئے ہوئے ہے، اس کا وزیر اعظم اس جنوبی ایشیا میں شعر کی تصویر بن گیا ہے ۔میں وہ آدم گزیدہ ہوں جو تنہائی کے صحرا میں۔۔خود اپنی چاپ سن کر لرزہ براندام ہو جائے۔۔رہا بحرانی پاکستان، بڑی تیزی سے پوری دنیا میں پرامن اور اہم عسکری طاقت، عالمی اقتصادی استحکام کی جدوجہد اور نئی اتحادی صف بندی کا بڑا کردار بن کر ابھر ا ہے۔ آئی پی پیز کا حکمران دوست اور عوام مخالف استحصالی بزنس زد میں آ چکا، پن بجلی (ہائیڈل پاور) کے گیارہ ہزار میگاواٹ کے آٹھ منصوبے پائپ لائن میں آ گئے۔ کوہاٹ کے قریب تیل کے محدود ذخائر میں وسعت کے امکانات حوصلہ افزا تک بڑھ گئے۔ کنٹرکشن اور بیمار ٹیکسٹائل انڈسٹری بحال ہو گئی ،پنجاب میں ری پروڈکٹیو ہیلتھ (زچہ بچہ صحت) کے سات بڑے اسپتال بن رہے ہیں شجرکاری کے حکومتی ایجنڈے کی برکات تو بہت زیادہ ہوں گی قومی انفراسٹرکچر میں انقلابی تبدیلیوں کا عمل شروع ہوچکا۔ ای گورننس کی طرف آنا پڑےگا یقین ہے کہ تمام تر مشکلات کے باوجود پاکستان تابناک ہونے کو ہے خان اعظم درست کہتا تھا گھبرانا نہیں۔مشکل نیست کہ آساں نا شود۔۔مرد باید کہ ہراساں نہ شود

Sharing is caring!

Comments are closed.