عمران خان اگر کشمیر بھی فتح کر لے تو یہ لوگ اس میں بھی نقص نکال لیں گے ۔۔۔ راوی اربن منصوبے میں احسن اقبال نے کیا نقص نکال لیا؟ جان کر آپ کی ہنسی نہیں رکے گی

لاہور(ؤیب ڈیسک) مسلم لیگ (ن) کے جنرل سیکریٹری احسن اقبال نے تحریک انصاف کی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ راوی اربن ڈیولپمنٹ پروجیکٹ کی تختی لگانے والے بتائیں کہ منصوبے کے لیے 50 کھرب روپے ارب کدھر ہیں؟۔لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا حکومت

کے پاس ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کو دینے کے لیے 10 ارب روپے نہیں ہیں۔انہوں نے کہا پاکستان کی سرکاری جامعات بدترین مالی خسارے سے دوچار ہیں اور اتنظامیہ اساتذہ کی تنخواہوں میں کٹوتی کررہی ہیں۔علاوہ ازیں احسن اقبال نے کہا کہ ایم ایل ون منصوبے کی کل مالیت 7ارب ڈالر ہے جبکہ حکومت نے بجٹ میں 6 ارب روپے رکھے ہیں، اگر اسی تناسب سے منصوبے پر رقم لگائی گئی تو منصوبہ 200 برس میں مکمل ہوگا۔قومی نوعیت کے منصوبے سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ حکومتی تخمیے کے مطابق دیا میر بھاشا ڈیم کے لیے 28 ارب روپے درکار تھے اور منصوبےکے لیے 16 ارب روپے مختص کیے ہیں اس طرح 12 ارب روپے کا شارٹ فال ہے اور حکومت 5 ہزار روپے والے منصوبے کی تختی لگارہی ہے۔جنرل سیکریٹری مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ ایک طرف تو قومی نوعیت کے منصوبوں کے لیے 10 اور 12 ارب روپے کا شارٹ فال ہے لیکن حکومت روای فرنٹ منصوبے کی تختی لگا کر لوگوں کو بیوقوف بنا رہی ہے۔انہوں نے زور دیا کہ بجلی مہنگی اور لوگوں کی تنخواہوں میں کٹوتی کرکے معیشت بہتر یا ملک ترقی نہیں ہوسکتی۔ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ 2 برس میں تاریخ کی سب سے کاروبار اور بزنس کے ‘شٹ ڈاؤن’ ہورہے ہیں۔علاوہ ازیں احسن اقبال کا کہنا تھا کہ ہیلتھ سیکٹر اور تعلیم کا بجٹ تنزلی سے دوچار ہے، جامعات کو گرانٹ نہیں مل رہی، پنجاب کا انفرااسٹرکچر تباہی کے دھانے پر ہے، سڑکوں کی مرمت پر گزشتہ 2 برسوں میں ایک

روپیہ بھی خرچ نہیں ہوا۔انہوں نے قرضوں سے متعلق حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت نے گزشتہ 2 برس میں ملکی تاریخ میں سب سے زیادہ قرضے لیے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ملک کو قرضوں کی دلدل میں پھنسا دیا، موجودہ حکومت نے ہمارے پانچ سالہ دور اقتدار میں حاصل کردہ قرضوں کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ قرضے وصول کرچکی ہے۔انہوں نے کہا ملک کے کسی حصے میں ایک منصوبہ بھی مکمل نہیں کیا اور اب تختیاں لگانے کا وقت آگیا۔علاوہ ازیں سیکریٹری جنرل نے اسپورٹس سٹی منصوبے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ منصوبے کی 86 فیصد فنڈنگ ہوچکی تھی مگر وزیراعظم عمران خان نے آتے ہی اس منصوبے کی فی الفور فنڈنگ روک دی جو صرف 14 فیصد باقی رہ گئی تھی جس کی وجہ سے کافی زیادہ تعداد میں درآمد شدہ سامان ضائع ہوگیا۔انہوں نے کہا کہ ‘اگر نوجوان کھلاڑیوں کو بین الاقوامی معیار کی سہولت فراہم کرنا جرم ہے تو اس منصوبے کو نقصان پہنچانا اس سے بھی سنگین جرم ہے’۔خیال رہے کہ 7 اگست کو وزیراعظم عمران خان نے راوی اربن ڈیولپمنٹ پروجیکٹ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ 50 کھرب روپے کا پروجیکٹ ہے اس کے لیے سرمایہ کاروں کو لے کر آئیں گے جبکہ اس پروجیکٹ کے تحت 60 لاکھ درخت بھی لگائے جائیں گے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ اب ضرورت ہے کہ نئے شہر آباد کیے جائیں، راوی پروجیکٹ لاہور کو بچانے کے لیے اہم ہے کیوں کہ یہاں بغیر پانی کے مسائل پیدا ہوں گے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.