فرعون کی قبر پر لکھی 3800 سال پرانی تحریر نے سائنسدانوں کو بھی حیران کر دیا

قاہرہ (نیوز ڈیسک)  مصر میں فرعونوں کے قدم مقبرے ہی کچھ کم عجوبہ نہ تھے کہ اب ان کے قریب ہی ایک اور ایسا عجوبہ دریافت ہوگیا ہے کہ جس نے ماہرین آثار قدیمہ کو بھی حیرت میں ڈال دیا ہے۔ اخبار دی مرر کی رپورٹ کے مطابق فرعون سینوسرت سوئم کے مقبرے کے قریب ہی قدیم ہائرو گلف تحریر دریافت ہوئی ہے

جو تقریباً چار ہزار سال قبل ہونے والی ایک جنگ کی تیاریوں کا احوال بیان کرتی ہے۔ یہ تحریر تصاویر کی صورت میں پتھروں پر کندہ کی گئی ہے جس میں قدیم مصر کی بحری افواج جنگ میں جانے سے قبل اپنی جنگی کشتیاں تیار کرتی نظر آتی ہے۔تاریخی شہر ادائے دوس میں دریافت ہونے والی یہ قدیم تحریر 120 سے زائد تصاویر پر مشتمل ہے۔ تاریخ دانوں کا کہنا ہے کہ مزید حیرت کی بات یہ ہے کہ جس جگہ قدیم تحریر دریافت ہوئی ہے وہیں سے ہزاروں سال قدیم کشتی کی باقیات بھی دریافت ہوئی ہیں، اور یہ خیال ظاہر کیا جارہا ہے کہ غالباً یہ کشتی بھی اسی مہم کا حصہ رہی ہوگی جس کا احوال قدیم تحریر میں بیان کیا گیا ہے۔سینو سرت سوئم کا تعلق فرعونوں کے 12ویں خاندان سے تھا اور اسے اس حکمران خاندان کا طاقتور ترین فرعون شمار کیا جاتا ہے۔ پنسلوانیا یونیورسٹی کے ماہر مصریات جوزف ویگنر نے قدیم ہائروگلف تحریر اور کشتی کی باقیات کی دریافت کے متعلق جریدے ناٹیکل آرکیالوجی میں شائع ہونے والی تازہ ترین رپورٹ میں انکشافات کئے ہیں۔ ویگنر کا کہنا ہے کہ ہائروگلف تحریر میں شامل کچھ تصاویر بہت بڑی ہیں۔ ان کا سائز تقریباً 5 فٹ کے برابر ہیں اور ان میں دکھائی گئی کشتیوں میں باریک ترین تفصیلات بھی واضح طور پر دیکھی جاسکتی ہیں، جن میں جنگی کشتیوں کے بادبان، عرشے، کیبن، چپو اور حتیٰ کہ چپو چلانے والے جنگجوؤں کو بھی دیکھا جاسکتا ہے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.