مالی سال 2020-21 کے آغاز پر پاکستان میں گاڑیوں کی فروخت میں کتنا اضافہ ہوا؟ حیرت کے جھٹکے کے لیے تیار ہو جائیں

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) مالی سال 2020-21 کے آغاز پر پاکستان میں کاروں کی فروخت کا مثبت رجحان، کورونا وبا کے بعد جولائی کے مہینے میں کاروں کی فروخت میں 36فیصد اضافہ ہوا ہے، پاکستان آٹوموٹو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پاما) کی ماہانہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں جولائی کے ہینے میں کاروں کی فروخت میں 36 فیصد

کا اضافہ ہوا ہے۔اس مثبت رجحان کی بنیادی وجہ ملک میں کورونا پابندیوں کا خاتمہ ، گاڑیوں کی طلب میں اضافہ اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی طرف سے شرح سود کم کرنا ہے۔ تاہم سال بہ سال گاڑیوں کی فروخت میں 8 فیصد اضافہ ہوا ہے جو گذشتہ ماہ 53 فیصد کم ہونے کے مقابلے میں ایک مثبت خبر ہے۔ پاکستان میں تمام بڑے تین کار سازوں کی گاڑیوں کی فروخت میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔اعداد و شمار کے مطابق ہونڈا اٹلس نے جون 2020 میں 1،839 یونٹ کے مقابلے میں جولائی 2020 میں 2،210 گاڑیاں فروخت کی ہیں۔ ٹویوٹا انڈس کی گاڑیوں کی فروخت میں 69.28فیصد کا سب سے نمایاں اضافہ دکھائی دیا ہے کیونکہ کمپنی نے جون 2020 میں یہ 2،015 کی نسبت گذشتہ ماہ 3،411 یونٹ فروخت کیے تھے۔ مزید برآں پاک سوزوکی نے جولائی 2020 میں 4،502 کاریں فروخت کیں جبکہ کمپنی نے جون 2020 میں یہ3،417گاڑیاں فروخت کی تھیں۔گذشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلہ میں پاک سوزوکی کی فروخت جولائی میں 40 فیصد کم رہی ، حالانکہ انڈس موٹر کمپنی (ٹویوٹا) اور ہونڈا اٹلس میں بالترتیب 68 فیصد اور 46 فیصد کا اضافہ دیکھا گیا۔ پاکستان آٹوموٹو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے مطابق ، اس ماہ کے لئے مجموعی طور پر صنعت کی فروخت 8 فیصد کم ہوکر 11،501 یونٹ رہی۔مزید برآں یہ خبر بھی آئی ہے کہ ‘کے آئی اے موٹرز’ جو ابھی تک پاما کی ممبر نہیں ہے نے بھی اچھی کارکردگی دکھائی ہے۔ کمپنی نے مبینہ طور پر جولائی 2020 کے مہینے میں 1،500 یونٹس فروخت کیے ہیں۔

Sharing is caring!

Comments are closed.