سعودی عرب اچانک پاکستان کی امداد سے پیچھے ہٹنے لگا مگر کیوں؟ حقیقت سامنے آتے ہی پاکستانی چلا اُٹھے

لاھور(ویب ڈیسک) سینئر صحافی اور کالم نگار جاوید چودھری نے اپنے کالم میں لکھا کہ سعودی عرب نے پاکستانی معیشت کو سہارا دینے کے لیے 3 ارب ڈالر پاکستانی سٹیٹ بینک میں رکھوائے جو کہ کشمیر کے حوالے سے دو ٹوک مؤقف اپنانے کے باعث سعودی عرب نے واپس مانگ لیے ہیں جبکہ پاکستانی حکومت نے بے عزتی کے ڈر سے

اس خبر کو چھپا لیا ہے، نجی ٹی وی چینل کے پروگرام آن دی فرنٹ میں اینکر کامران شاہد نے کالم سے متعلق سوال کیا تو جاوید چودھری نے مزید انکشافات کر دیئے۔جاوید چودھری نے بتایا کہ 2018 میں جب پاکستان کو سعودی عرب کی جانب سے ادھار تیل اور ساتھ میں ساڑھے 3 ارب ڈالر ملکی معیشت کی بحالی کے لیے دیئے گئے تھے مگر پھر پے در پے کچھ ایسے واقعات ہوئے جن میں ترکی ، ایران اور ملائیشیا کے واقعات قابل ذکر ہیں۔ جن کے بعد سعودی عرب نے اب اپنی امداد آہستہ آہستہ واپس لینا شروع کر دی ہے۔انہوں نے بتایا کہ سعودی عرب نے اپنے سارے پیسے واپس مانگ لیے ہیں جس کے تحت پاکستان نے ایک ارب ڈالر کی پہلی قسط جولائی کے آخری ہفتے میں واپس کر دی ہے اور باقی کی رقم عنقریب ہم سعودی عرب کو واپس دیں گے۔جاوید چودھری نے کہا کہ اس معاملے میں پاکستانی وزارت خارجہ کی نااہلی ہے کہ جب ہم سعودی عرب سے مالی امداد اور سپورٹ حاصل کر رہے تھے تو دوسری جانب ملائیشیا کے ساتھ ہاتھ ملایا گیا جو کہ دوسری او آئی سی بنانا چاہتا ہے۔ تو ایسے وقت میں ہمیں اسے سپورٹ کرنے کی کیا ضرورت تھی۔انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ سعودی عرب کے کشیدہ تعلقات پر مبنی 14سو سال پرانی تاریخ ہے اور اگر ہم ایران کی حمایت کریں گے تو سعودی عرب کی ناراضگی لازمی امر ہے۔جاوید چودھری نے کہا کہ اس میں سب سے اہم کردار ترکی کے ساتھ پاکستانی تعلقات نے ادا کیا انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس سب میں ارطغرل غازی ڈرامے نے بھی بڑا ہی اہم کردار ادا کیا ہے، جس کے باعث سعودی عرب یہ محسوس کر رہا ہےکہ پاکستان جان بوجھ کر یہاں ترکش ماڈل کو اہمیت دے رہا ہے۔جاوید چودھری نے کہا کہ جب وزیر خارجہ نے ان تینوں مسلم ممالک کو بلا کر وزرائے خارجہ کانفرنس بلانے کی بات کی تو اس بات نے معاملے کو مزید ہوا دے دی جس کے باعث یہ کہنا قبل از وقت نہیں کہ اس جھٹکے کا ذمہ دار دفتر خارجہ اور اس کی ناکام پالیسیاں ہیں۔

Sharing is caring!

Comments are closed.