بے شرمی کی انتہاء! مریم نواز کے قافلے میں کارکنان گاڑیوں میں کیا کچھ رکھ کر لائے تھے؟ خصوصی فوٹیج سامنے آگئی، پوری (ن) لیگ منہ چھپانے پر مجبور

لاہور(ویب ڈیسک) مریم نواز کے قافلے میں موجود پتھروں سے بھری ایک کالی گاڑی سامنے آگئی جو مریم نواز کی سیکیورٹی پر مامور تھی۔اس گاڑی میں بھاری تعداد میں پتھروں سے بھرے شاپر رکھے دیکھے جاسکتے ہیں۔فوٹیج میں دیکھا جاسکتا ہے کہ لال ٹی شرٹ پہنے شخص نے گاڑی سے پتھروں بھری تھیلی نکالی اور

پولیس اہلکاروں پر پتھراؤ شروع کردیا جبکہ دیگر کارکنان بھی گاڑی سے پتھر نکالنے کیلئے کھڑے ہیں۔سماء ٹی وی کے مطابق ن لیگی ایم پی اے مرزا جس کے ہمراہ مریم صفدر جاتی امراء سے نیب پیشی کیلئے نکلیں اس نے تین سے چار گاڑیوں میں پتھروں کے بیگ لوڈ کرائے۔ سماء کے مطابق مرزا جاوید نے کارکنوں کو ہدایت کی تھی کہ اگر پولیس آپکو روکنے کی کوشش کرے تو ان پر پتھراؤ شروع کردیں۔ایک اور ٹی وی چینل نے ویڈیو جاری کی ہے جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ اسی گاڑی سے ن لیگی کارکنان پتھر نکال رہے ہیں اور پولیس والوں پر پتھر پھنک رہے ہیں۔ان ویڈیوز سے یہ ظاہرہورہا ہے کہ پولیس اور نیب آفس پر پتھراؤ کی پہلے سے منصوبہ بندی ہوئی تھی ۔ پیشی کے دوران لیگی کارکنان کیا کچھ کرتے رہے؟ ویڈیو آپ بھی دیکھیں :

دوسری جانب مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز دوبارہ نیب آفس پہنچ گئی، مریم نواز نیب دفترکے باہر اپنی گاڑی میں بیٹھی ہوئی ہیں، نیب حکام سے پوچھا جا رہا ہے کہ آج انکوائری کریں گے یا دوبارہ بلائیں گے۔ تفصیلات کے مطابق مسلم لیگ ن کی مرکزی رہنماء مریم نواز کو نیب حکام نے پولیس اور کارکنان کے درمیان ہنگامہ آرائی کے باعث واپس جانے کی ہدایت کی تھی۔نیب حکام نے کہا تھا کہ موجودہ کشیدہ صورتحال میں مریم نواز کو نہیں سن سکتے، مریم نواز کی آج کی پیشی منسوخ کردی ہے۔ ان کو دوبارہ طلب کیا جائے گا۔ لیکن مریم نواز تھوڑی دیر بعد دوبارہ نیب آفس کے باہر پہنچ گئی اور نیب حکام سے تفصیلات طلب کیں کہ آج انکوائری کریں گے یا دوبارہ

بلائیں گے۔مریم نواز نے کہا کہ مجھے نقصان پہنچانے کیلئے گھر سے بلایا گیا، مجھے آج بلایا گیا ہے، تو جواب بھی سنیں، جھوٹے الزامات کا جواب دینے آئی ہوں۔جب بلاتے ہو تو پھر سننے کا بھی حوصلہ رکھو۔ دوسری جانب نیب حکام نے چیئرمین نیب سے مشاورت کی ، چیئرمین نیب نے کہا کہ مریم نواز کوایک ہفتے بعد کا نوٹس دیا جائے جس میں مریم نواز کی پیشی سے متعلق ایس اوپیز بنائے جائیں گے۔ واضح رہے اس سے قبل مریم نواز کی پیشی کے موقع پر نیب آفس کے باہر ن لیگی کارکنان کے مشتعل ہونے اور پولیس اور کارکنان کے درمیان تصادم کے باعث صورتحال کافی کشیدہ ہوگئی ہے۔کارکنان نے پولیس کی جانب سے رکاوٹیں ڈالنے پر پتھراؤ کیا۔ مریم نواز کی گاڑی کا شیشہ بھی ٹوٹ گیا۔ جس پر نیب حکام نے مریم نواز کی آج کی پیشی منسوخ کردی ہے۔ اور مریم نواز کو واپس جانے کی ہدایت کردی ہے۔ نیب حکام نے کہا کہ موجودہ کشیدہ صورتحال میں مریم نواز سے کیس کی تحقیقات نہیں کی جاسکتیں، مریم نواز کی آج کی پیشی منسوخ کردی ہے، ان کو دوبارہ طلب کیا جائے گاجس پر مریم نواز نیب آفس سے واپس جاتی امراء روانہ ہوگئی ہیں۔ دوسری جانب مریم نواز نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ مسلم لیگ ن کے کارکنان کو منتشر کیا جا رہا ہے۔ اگر نوازشریف، شہباز شریف اور مریم نواز سے اتنا ڈرتے ہو تو پھر بلاتے کیوں ہو؟ اگر بلاتے ہو، تو پھر حوصلہ رکھو، جگر رکھو۔ پولیس نے پتھراؤ

کرکے میری گاڑی کا شیشہ توڑ دیا ہے۔واضح رہے مسلم لیگ ن کی مرکزی رہنماء مریم نواز کارکنوں کے قافلے کے ساتھ جاتی امراء سے نیب آفس روانہ ہوئی تھیں،نیب نے مریم نواز کو جاتی امراء اراضی کی خریدوفروخت کی تمام تفصیلات کے ساتھ آج طلب کررکھا تھا۔ نیب حکام نے مریم نواز کی طلبی کا نوٹس اور سوالنامہ جاتی امراء ارسال کیا گیا تھا۔ سوالنامے میں پوچھا گیا ہے کہ جاتی امرا 1440 کینال اراضی کی تفصیلات سے نیب کو بتایا جائے۔زمین جب خریدی گئی تو ذرائع آمدنی کیا تھے؟ زمین کی خریداری کا طریقہ کیا تھا؟ اراضی کا ٹیکس ادا کیا گیا؟ زمین زرعی یا کمرشل استعمال میں رہی؟ ذرائع کے مطابق مریم نواز پر رائے ونڈ میں خلاف قانون اراضی انتہائی سستے داموں خریدنے کا الزام ہے، شریف خاندان کی جانب سے 2013 میں 3568 کنال اراضی خلاف قانون خریدی گئی اور سب سے زیادہ زمین نواز شریف اور شہباز شریف کی والدہ شمیم بی بی کے نام منتقل ہوئی جو 1936 کنال تھی۔ذرائع نے بتایا کہ نواز شریف اور شہباز شریف کے نام 12 ،12 ایکڑ زمین منتقل ہوئی اور زمین منتقلی میں ایل ڈی اے کے قواعد و ضوابط کو نظر انداز کیا گیا جبکہ 2015 میں سابق ڈی جی ایل ڈی اے احد چیمہ کے توسط لاہور کا ماسٹر پلان تبدیل کروایا گیا جس کے تحت شریف فیملی کی زمین کے ارد گرد تمام رقبے کو گرین لینڈ قرار دے دیا گیا جو شریف فیملی کی اراضی کے ارد گرد تعمیرات کو روکنے کے لیے کیا گیا۔

Sharing is caring!

Comments are closed.