ایوب خان کو اس بات کا پتہ چل چکا تھا کہ اب میرا تختہ الٹا دیا جائے گا کیونکہ ۔۔۔ پاکستان کے سیاسی ادوار کے چشم دید گواہ نواب زادہ نصراللہ کے اہم انکشاف

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) یہ موقف اختیار کرنا حد درجہ مضحکہ خیز بات ہو گی اس لیے اس تجویز کو قبول کرنا نہ میرے لیے آسان ہو گا اور نہ صدر ایوب کے لیے۔ ایوب خان کو اسی وقت معلوم ہوچکا تھا کہ جنرل یحییٰ خان گول میز کانفرنس کی ناکامی کی صورت میں خود اقتدار پر قابض ہونا چاہتے ہیں۔

ایوب خان دیانتداری کے ساتھ چاہتے تھے کہ سیاسی تصفیے کے بعد اقتدار عوام کے محب وطن نمائندوں کو لوٹا دیں۔ انہی ایام میں ایک رات بارہ بجے کے قریب ایوان صدر سے ایک صاحب مجھے ملنے آئے۔ انہوں نے بتایا کہ تینوں دفاعی افواج کے سربراہ جنرل یحییٰ خان، ایڈمرل احسن اور ایئرمارشل نورخان ایوان صدر میں اکٹھے ہوئے۔ صدر ایوب نے انہیں ملک میں امن عامہ کی صورتحال سے آگاہ کیا اور خواہش ظاہر کی جن شہروں میں امن عامہ کی صورتحال بہت زیادہ بگڑ چکی ہے وہاں جزوی طور پر مارشل لاء لگا دیا جائے۔ جنرل یحییٰ نے یہ تجویز ماننے سے انکار کردیا۔ عذر یہ پیش کیا کہ اس طرح دفاعی افواج کی طاقت تقسیم ہو جائے گی۔ وہ ایک جگہ قابو پائیں گی تو دوسری جگہ اسی قسم کے فسادات شروع ہو جائیں گے۔ یحییٰ خان نے کہا کہ پورے ملک میں مارشل لاء لگایا جائے تو وہ تیار ہیں۔یحییٰ خان کی اس تجویز کا مفہوم واضح تھا۔ وہ چاہتے تھے کہ اقتدار انہیں منتقل کردیا جائے۔ انہی صاحب نے مجھے صدر ایوب کا پیغام دیا کہ اس صورتحال کے پیش نظر میں کوشش کروں گا کہ کسی طرح یہ کانفرنس کامیاب ہو تاکہ یحییٰ خان اپنے عزائم پورے کرنے میں کامیاب نہ ہوں۔ میں نے ان صاحب سے کہا کہ انہی حالات میں خان لیاقت علی خان نے فوج کے طالع آزمائوں کے خلاف جرأت مندانہ اقدام کیا تھا۔ ایوب خان ایسا کیوں نہیں کرتے؟ انہوں نے بتایا: فیلڈ مارشل کے اعصاب جواب دے چکے ہیں، وہ دفاعی افواج کے سربراہوں کے خلاف تو درکنار ایک عام سپاہی کے خلاف بھی کوئی ایکشن لینے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔

در ایوب نے کانفرنس کو کامیاب بنانے کے لیے مجیب کی رہائی کا فیصلہ کرلیا۔ انہوں نے خواجہ شہاب الدین اور ایڈمرل اے آرخان کو ڈھاکہ بھیجا کہ مجیب سے یقین دہانی لے کر آئیں کہ وہ کانفرنس میں صحیح رویہ اختیار کرے گا۔ ان حضرات نے میجر جنرل مظفرالدین جی۔ او۔ سی کی اقامت گاہ پر مجیب سے بات کی۔ مجیب نے قسمیں کھا کر وعدہ کیا کہ وہ گول میز کانفرنس کو کامیاب بنائے گا۔چودھری محمد علی کے مشورے کے مطابق 21فروری کو صدر ایوب خان نے اعلان کیا کہ وہ آئندہ صدارتی انتخاب میں اُمیدوار نہیں ہوں گے۔ بھٹو صاحب نے اسی دن کراچی سے مجھے تار دیا۔ میں اس دن راولپنڈی میں تھا۔ تار میں بھٹو صاحب نے کہا صدر ایوب خان کے (آئندہ صدارتی انتخاب سے) الگ ہونے کے فیصلے کے بعد قومی مسائل کا حل تلاش کرنا ممکن ہو گیا ہے۔ اس صورتحال میں وطن عزیز میں حالات کو معمول پر لانے کے لیے میں آپ کو اپنی اور اپنی پارٹی کی جانب سے مخلصانہ تعاون کی یقین دہانی کراتا ہوں۔ 22فروری کو اگرتلہ کیس واپس ہوگیا۔ شیخ مجیب الرحمان اور دوسرے ملزم رہا ہو گئےمغربی پاکستان کے سیاسی طالع آزمائوں میں مجیب کی رضاجوئی کے لیے مسابقت کی جنگ شروع ہو گئی۔ بھٹو انہیں ملنے ڈھاکہ پہنچے۔ انہی کے ساتھ لاہور تک آئے۔ ملک غلام جیلانی لاہور کے ہوائی اڈے پر ان کے استقبال کے لیے موجود تھے، وہ انہیں اپنے گھر لے گئے، وہاں ممتاز دولتانہ اور شوکت حیات نے ان سے ملاقات کی، مجیب نے ایمبیسڈر ہوٹل میں قیام کیا۔مجیب راولپنڈی پہنچے اور جمہوری مجلس عمل کے اجلاس میں شرکت کی۔ ایئرمارشل اصغر خان بھی مجلس عمل کے اجلاس میں شریک ہوئے

جنرل اعظم خان لاہور سے آئے مگر جب دیکھا ایئرپورٹ پر کوئی آدمی ان کے استقبال کو نہیں آیا تو لاہور پلٹ آئے۔ مجیب نے جمہوری مجلس عمل کے طے شدہ نکات کو گول میز کانفرنس میں موضوع بحث بنانا ناکافی قرار دیا۔ اصرار کیا کہ چھ نکاتی پروگرام کو بھی منظور کیا جائے۔ یہ نہیں تو ہم پارلیمانی نظام حکومت اور بلاواسطہ ووٹ کے بھی خواہاں نہیں ہیں۔ میں نے انہیں کہا کہ عوامی لیگ چھ نکاتی پروگرام کی وجہ سے دو حصوں میں تقسیم ہوئی۔ ہم جمہوری مجلس عمل میں ان اقدار میں اکٹھے ہوئے ہیں جو ہمارے درمیان مشترک ہیں۔ آپ کے پروگرام کو منظور کرنے کا مطلب چھ نکاتی عوامی لیگ میں جمہوری مجلس عمل کی تمام جماعتوں کا اوغام ہی ہوسکتا ہے۔ مجیب نے ایک نہ مانی، فیصلہ ہوا کہ 19فروری کو گول میز کانفرنس میں شریک ہو کر بکرعید کے عذر پر التوا مانگیں، پھر نئی تاریخ سے چار پانچ روز پہلے لاہور میں اکٹھے ہوں اور کوئی متفقہ لائحہ عمل تیار کریں۔میں مجیب کے وہاں پہنچا تو ان کے کمرے سے یوسف ہارون نکل رہے تھے۔ مجیب مشرقی پاکستان میں یوسف ہارون کی انشورنس کمپنی (الفا انشورنس کمپنی) کے منیجر رہ چکے تھے۔ سب سے عجیب بات یہ کہ دائود سیٹھ اور آدم جی وغیرہ بھی مجیب کے کمرے کا طواف کررہے تھے۔ یوسف ہارون بعد میں بکرعید کے روز بھی ڈھاکہ پہنچے۔ چارٹرڈ ہیلی کاپٹر پر مجیب کے آبائی گائوں گوپال گنج گئے۔ پہلی دفعہ مکان نہ ملا۔ ہیلی کاپٹر واپس آگیا۔ دوبارہ گئے اور ڈیڑھ دو میل کا فاصلہ پیدل طے کر کے شرف نیاز حاصل کیا۔ 19فروری کو گول میز کانفرنس منعقد ہوئی۔ جمہوری مجلس عمل کے مندوبین کے علاوہ ایئرمارشل اصغر خاں اور جسٹس مرشد نے بھی شرکت کی۔ ہماری استدعا پر کانفرنس 10مارچ تک ملتوی ہو گئی۔ مشرقی پاکستان کے مندوبین واپس روانہ ہوئے۔

طے پایا کہ جمہوری مجلس عمل کا اجلاس چھ مارچ کو چودھری محمد علی کی اقامت گاہ (گلبرگ لاہور) پر ہو گا۔ھ مارچ کے اجلاس کے لیے قائدین لاہور میں جمع ہوئے۔ شیخ مجیب الرحمان شاہانہ ٹھاٹھ کے ساتھ وارد ہوئے۔ چالیس مشیروں کی فوج ان کے ساتھ تھی۔ ہوٹل ایمبیسڈر کا پورا ونگ ان کے لیے ریزرو رہا۔ پہلا اجلاس چودھری محمد علی کی اقامت گاہ پر ہوا۔ بعد کے اجلاس پارک لگژری ہوٹل کے کمرہ نمبر 116 میں ہوتے رہے جہاں ان دنوں میں مقیم تھا۔ پہلے اجلاس میں تمام مندوبین شامل ہوئے۔ شیخ مجیب نے چھ نکاتی پروگرام کی منظوری کے علاوہ دارالحکومت کی ڈھاکہ منتقلی، ڈھاکہ میں تینوں دفاعی افواج کے ہیڈکوارٹرز کے قیام، ون یونٹ کے خاتمے اور مشرقی ومغربی پاکستان کے درمیان مساوی نیابت کے اصول کے خاتمے کی تجاویز پیش کیں۔ نیشنل عوامی پارٹی کے مشرقی پاکستان کے مندوب نے مجیب کی ان تجاویز کی حمایت کی اور ون یونٹ کے خاتمے پر اصرار کیا۔ میں نے کہا: میں نہ تو چھ نکاتی پروگرام کو تسلیم کرتا ہوں نہ مجھے دارالحکومت کی ڈھاکہ منتقلی سے اتفاق ہے۔ پاکستان جیسا غریب ملک اس کا متحمل نہیں ہوسکتا کہ پہلے کراچی سے اسلام آباد اور اب ڈھاکہ میں دارالحکومت منتقل کرتے پھریں۔ اس سے جہاں معیشت بُری طرح متاثر ہو گی وہاں اقوام عالم میں ہماری پوزیشن مضحکہ خیز ہو جائے گی۔ جہاں تک ون یونٹ کا تعلق ہے اس کی تشکیل اس ضرورت کے تحت کی گئی تھی کہ مشرقی پاکستان کے سیاسی رہنما اپنے صوبے کے لیے زیادہ خودمختاری کا مطالبہ کرتے تھے۔

ظاہر ہے اتنی صوبائی خودمختاری مغربی پاکستان کے صوبوں میں تقسیم نہیں کی جاسکتی تھی اور مشرکہ امور کی انجام دہی کے لیے ان صوبوں کے ایک یونٹ میں ادغام کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔ نیشنل عوامی پارٹی جو شروع سے ون یونٹ کے خلاف رہی ہے، نے بھی ہمیشہ یہ کہا ہے کہ ون یونٹ توڑ کر صوبے بحال کیے جائیں اور ساتھ مشترکہ امور کی انجام دہی کے لیے ایک زونل فیڈریشن (ذیلی وفاق) قائم کی جائے۔ کسی متبادل نظام کے بغیر ون یونٹ کا خاتمہ مغربی پاکستان کو بلقان اور مشرق وسطیٰ بنانے کے مترادف ہوگا۔ مولانا مودودیؒ اور چودھری محمد علی نے میری تائید کی۔مجیب الرحمن نے برہم ہو کر مجھے کہا ’’آپ کا رویہ بے حد سخت ہے اس صورت میں میں گول میز کانفرنس میں شرکت کے بجائے ڈھاکہ چلا جائوں گا‘‘۔میں نے جواب دیا ’’ہم سب پاکستان کے بارہ کروڑ عوام کے حقوق کی بازیابی کیلئے کانفرنس میں شرکت کررہے ہیں، اس میں شرکت کا فیصلہ ہمارا آپ پر یا آپ کا ہم پر احسان نہیں۔ اگر آمرانہ نظام کو ختم کرنے کے بارے میں آپ مخلص اور سنجیدہ نہیں ہیں تو واپس جاسکتے ہیں‘‘۔میاں محمود علی قصوری میرے ہوٹل میں مجھے ملے۔ ان کے ساتھ مجیب کے رویے کے بارے میں تفصیلی گفتگو ہوئی۔ میں نے انہیں کہا کہ اگر نیشنل عوامی پارٹی، مجیب کے چھ نکات اور دوسرے مطالبات کی حمایت سے دست کش ہو جائے تو ہم ون یونٹ کے بارے گفتگو کرنے پر آمادہ ہوسکتے ہیں۔ قصوری صاحب نے یقین دلایا کہ ان کی پارٹی مجیب الرحمن

کے مطالبات کی حمایت نہیں کرے گی۔ دوسرے دن ون یونٹ کے بارے میں ایک سب کمیٹی بنا دی گئی۔ اس کا اجلاس میری صدارت میں ہوا۔ طویل بحث کے بعد طے پایا کہ ون یونٹ کے خاتمے کی صورت میں صوبوں کو بحال کرنے کے ساتھ مشترکہ امور کی انجام دہی کے لیے مغربی پاکستان میں زونل فیڈریشن قائم کی جائے گی۔ مساوی نیابت کا اصول صرف وفاق کی اکائیوں پر لاگو ہوسکتا ہے، کسی ذیلی وفاق میں اس قسم کا مطالبہ نہیں کیا جاسکتا لیکن ہم نے مغربی پاکستان کے اقلیتی صوبوں کے عوام میں اعتماد بحال کرنے اور علاقائی تعصبات کا زہر بکھیرنے والوں کا منہ بند کرنے کے لیے یہ تجویز منظور کی کہ جس طرح مشرقی اور مغربی پاکستان کے درمیان مساوی نیابت کا اصول قائم رکھا جائے گا۔ اسی طرح پنجاب کو زونل فیڈریشن میں چھوٹے صوبوں کے برابر یعنی پچاس فیصد نمائندگی دی جائے گی۔دوسرے دن جمہوری مجلس عمل کا اجلاس شروع ہوا۔ ون یونٹ سب کمیٹی کی طرف سے یہ فارمولا پیش کرنے سے پہلے ہی پروفیسر مظفر احمد نے میاں محمود علی قصوری کی یقین دہانی کے برعکس مجیب الرحمن کے مطالبات کی مکمل حمایت کا اعلان کیا۔ اس پر میں نے کہا کہ اب گول میز کانفرنس میں جمہوری مجلس عمل کی طرف سے میں صرف ان دو آئینی مطالبات کا ذکر کروں گا جو متفقہ طور پر طے ہو چکے ہیں یعنی وفاقی پارلیمانی نظام اور بالغ رائے دہی کی بنیاد پر براہ راست انتخابات۔ اگر کسی پارٹی کا نمائندہ کوئی مطالبہ پیش کرنا چاہے تو کانفرنس میں اپنی جماعت کے مطالبے کے طور پر پیش کرسکے گا۔

یہ مطالبات جمہوری مجلس عمل کے درمیان طے شدہ امور نہیں سمجھے جائیں گے۔ میرا کہنے کا مقصد یہ تھا کہ پروفیسر مظفر احمد کے اس رویے کے بعد ہم ون یونٹ کے بارے میں بھی اس فارمولے کے پابند نہیں رہے جو میاں محمود علی قصوری کی یقین دہانی پر تجویز کیا گیا تھا۔دس مارچ کو گول میز کانفرنس کا اجلاس ہوا۔ صدر ایوب نے ابتدائی تقریر کی۔ میں نے جمہوری مجلس عمل کے کنوینئر کی حیثیت میں ملک کو پیش حالات تجزیہ اور دو متفقہ نکات پیش کیے۔ شیخ مجیب نے چھ نکاتی پروگرام اور دوسرے مطالبات بارے ٹائپ شدہ آٹھ صفحات کی تقریر پڑھی۔ خان عبدالولی خان نے ون یونٹ کے خلاف اظہار خیال کیا۔ چودھری محمد علی نے نہایت فاضلانہ تقریر ی کی۔ انہوں نے آئین، ون یونٹ اور مساوی نمائندگی کے مختلف پہلوئوں پر روشنی ڈالی۔مولانا مودودی نے بھی مدلل تقریر کی۔ مولانا مفتی محمود نے دستور میں اسلامی اصول شامل کرنے کا مطالبہ کیا۔ صدر ایوب نے اعلان کیا کہ وہ جمہوری مجلس عمل کے دونوں مطالبات یعنی براہ راست انتخابات اور پارلیمانی نظام حکومت تسلیم کرتے ہیں، باقی تمام نزاعی معاملات نئی منتخب ہونے والی خودمختار اسمبلی پر چھوڑ دیتے ہیں۔ اس پر چودھری محمدعلی، مولانا مودودی اور میں نے ایوب خاں کا شکریہ ادا کیا۔ مجیب نے اس دن ایک پریس کانفرنس میں شدید ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کے مطالبات کو درخوراعتنا نہیں سمجھا گیا۔ جمہوری مجلس عمل صرف دو مطالبات منوانے کے لیے قائم کی گئی تھی۔ صدر ایوب نے دونوں مطالبات مان لیے تھے، میں نے اسی دن جمہوری عمل کو ختم کرنے کا اعلان کردیا۔ ایئرمارشل اصغر خان نے اسی دن اپنی سیاسی جماعت جسٹس پارٹی قائم کرنے کا اعلان کیا

Sharing is caring!

Comments are closed.