ایک ناقابل فراموش واقعہ

راولپنڈی (نیوز ڈیسک) 27 جولائی 1948 کو کشمیر کے علاقے اڑی میں ارض وطن پر جان قربان کرنے والے کیپٹن راجہ محمد سرور نشان حیدر کی لازوال قربانی کی اعتراف میں‌آئی ایس پی آر کی جانب سے انہیں شاندار خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ

قوم 1948 کی کشمیر کی لڑائی میں نشان حیدر پانے والے کیپٹن محمد سرور کی عظیم قربانی کو خراج عقیدت پیش کرتی ہے۔ان کا ناقابل تسخیر حوصلہ اور غیر متزلزل وفاداری ہمیشہ کیلئے عزم و ہمت کی مثال بنے رہے گی۔ انہوں نے اپنے ملک اور کشمیر کیلئے جو بھی قربانی دی وہ ہمارے اس عزم کو مزید مضبوط کرتی ہے کہ ہم نے پاکستان کی ہر قیمت پر حفاظت کرنی ہے۔قیام پاکستان کے بعد سرور نے پاک فوج میں شمولیت اختیار کرلی۔ 1948ء میں جب وہ پنجاب رجمنٹ کی سیکنڈ بٹالین میں کمپنی کمانڈر کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے، انہیں کشمیر میں آپریشن پر مامور کیا گیا۔27 جولائی 1948ء کو انہوں نے کشمیر کے اوڑی سیکٹر میں دشمن کی اہم فوجی پوزیشن پر اٹیک کیا۔کیپٹن سرور نے پیش قدمی جاری رکھی۔ دشمن کے مورچے کے قریب پہنچ کر انہیں معلوم ہوا کہ دشمن نے اپنے مورچوں کو خاردار تاروں سے محفوظ کر لیا ہے، اس کے باوجود کیپٹن سرور مسلسل برسرپیکار رہے۔زخمی ہونے کے باوجود انہوں نے بے مثال جذبے کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک ایسی مشین کا چارج لیا جس کا جوان اپنی جان قربان کر چکا تھا ، اپنے گھائل ہونے اور جان کی پروا کیے بغیر 6 ساتھیوں کے ہمراہ انہوں نے خاردار تاروں کو عبور کرکے دشمن کے مورچے پرآخری ہلہ بولا ۔دشمن نے اس اچانک افتاد کے بعد اپنی توپوں کارخ کپٹن سرور کی جانب کر دیا، یوں کیپٹن سرور کا سینہ انکا ٹارگٹ بنا اور پاکستان کے شیر دل بیٹے نے اپنی جان ارض وطن پر قربان کردی ۔ اس بے مثال شجاعت اور بہادری کی تاریخ رقم کرنے پر کیپٹن راجہ سرور کو پاکستان کے سب سے بڑے فوجی اعزاز نشانِ حیدر سے نوازا گیا۔ وہ یہ اعزاز پانے والے پہلے پاکستانی ہیں۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *