تاریخ کا دوسرا ارتغل : بحیرہ روم اور بحیرہ اسود پر ترک فوجیں ۔۔۔ طیب اردگان نے پورے یورپ کو ہلا کر رکھ دینے والا اعلان کر دیا

انقرہ(نیوز ڈیسک) ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے تقریبا ایک ہزار سال قبل ترک فوج کی ایک اہم فتح کے سلسلے میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ترکی بحیرہ روم کے ساتھ ساتھ ایجین اور بحیرہ اسود میں جو کچھ بھی اس کا ہے وہ ضرور لے گا اور اپنے حقوق کا دفاع کرے گا۔خبر رساں ایجنسی انادولو کے

مطابق اردوان نے مشرقی ترکی کے شہر موس میں لڑی جانے والی منزکیرٹ کی 949 ویں سالگرہ کے موقع پر بدھ کو منعقدہ تقریب میں کہا کہ ترکی کا کسی بھی دوسرے ملک کی سرزمین، خودمختاری یا مفادات سے کوئی لینا دینا نہیں لیکن جو کچھ اس کا ہے وہ اس کے حوالے سے کوئی رعایت نہیں برتے گا۔اردوان نے یونان کے ساتھ سمندری علاقے اور توانائی کے وسائل کے سلسلے میں ترکی کے حقوق کے بارے میں تنازعات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ترکی ہر کسی سے درخواست کرتا ہے کہ وہ وہ ایسے غلط قدم اٹھانے سے گریز کریں جو تباہی کا سبب بنیں۔انہوں نے کہا کہ آج بھی بازنطینی ورثہ کے نااہل افراد یورپیو کی حمایت پر اعتماد کرتے ہوئے ناانصافی اور قزاقی حرکتوں کا ارتکاب کرتے ہیں جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ تاریخ سے سبق سیکھنے میں ناکام رہے ہیں۔انہوں نے یہ تبصرہ ترکی کے بحیرہ اسود میں قدرتی گیس کی بڑی دریافت اور یونان کے ساتھ مشرقی بحیرہ روم میں جاری تنازع کے بعد کیا ہے۔اردوان نے جمعہ کے روز اعلان کیا تھا کہ ترکی نے بحیرہ اسود کے ساحل سے 20 جولائی سے کھدائی کرنے والے ان کے بحری جہاز فاتح نے بعد قدرتی گیس کے 320 بلین مکعب ذخائر تلاش کرلیے ہیں۔اردوان نے جس تقریب سے خطاب کیا دراصل وہ 26اگست 1071 کو مشرقی ترکی میں سلطان الپ ارسلان کی فتح کی یاد میں منعقد کی گئی اور اس فتح کے بعد بازنطینی سلطنت کا زوال تیز تر ہو گیا تھا

اور مزید ترک آبادیاں بن گئی تھیں جس سے خلاف عثمانیہ اور جدید دور کے ترکی راہ ہموار ہوئی تھی۔یونانی ‘لاقانونیت’ پر ترکی کا اعتراض جرمنی کے وزیر خارجہ ہیکو ماس سے منگل کو ہوئی ملاقات کے دوران بحیرہ روم کے تنازع پر ثالثتی کی درخواست کی گئی اور ترک وزیر خارجہ میلوت کاوسلو نے مذاکراتی عمل میں شمولیت پر آمادگی کا اظہار کیا لیکن انہوں نے یونانی “لاقانونیت” اور خطے میں کشیدگی بڑھانے پر بھی اعتراض کیا۔ترکی نے یونان کی جانب سے ترکی کو توانائی کی کھوج سے روکنے کے معاملے پر بھی احتجاج کرتے ہوئے اس سلسلے میں یورپی یونین کی مدد طلب کی۔ماس کے دورے سے پہلے ترکی اور بعد میں یونان نے بحیرہ روم میں فوجی مشقوں سے متعلق متضاد انتباہات بھیجے تھے۔ترک ساحلوں کے قریب چھوٹے جزیروں کو خصوصی معاشی خصوصی معاشی زون قررا دینے کی یونان کی کوششوں کی ترکی مستقل مخالفت کرتا رہا ہے کیونکہ بحیرہ روم میں سب سے طویل ساحل کے حامل ملک ترکی کا ماننا ہے کہ یہ ان کے مفادات کی نفی کرتے ہیںترکی نے یہ بھی کہا ہے کہ قبرص کے قریب توانائی کے وسائل کو ترک پیٹرولیم کو لائسنس دینے والے ترک جمہوریہ شمالی قبرص (ٹی آر این سی) اور جنوبی قبرص کی یونانی قبرصی انتظامیہ کے درمیان منصفانہ طور پر مشترکہ طور پر تقسیم ہونا چاہیے۔اردوان نے کہا ہے کہ تنازع کا واحد حل بات چیت اور گفت و شنید میں پوشیدہ ہے اور یونان سے مطالبہ کیا کہ وہ ترکی کے حقوق کا احترام کرے۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *