پاکستانی خزانے کو اچانک 990 ارب روپے کا فائدہ پہنچ گیا ۔۔۔ یہ کب اور کیسے ہوا ؟

لاہور(نیوز ڈیسک) پاکستان کے تینوں بڑے آبی ذخائر تربیلا،منگلا اورچشمہ بھرنے کے قریب پہنچ گئے۔تینوں ڈیموں کا بھرنا اس لئے بھی اہم ہے کہ رواں سیزن میں ساڑھے 30 لاکھ ایکڑ فٹ (ایم اے ایف) پانی کوٹری بیراج سے نیچے بہا کرسمندر کی نذر بھی کردیا گیا ہے۔انڈس ریورسسٹم اتھارٹی(ارسا) کے ممبرراؤ ارشاد نے بتایا ہے

کہ گزشتہ برس تینوں ڈیم مکمل نہ بھرنے کی وجہ سے یکم اکتوبر2019 کو ربیع سیزن شروع ہونے پرڈیموں میں کیری اوورذخائر صرف60 لاکھ ایکڑفٹ تھے۔ جس کے باعث ربیع میں نہری پانی کی 49 فیصد تک قلت کا اندازہ لگایا گیا تھا،لیکن اس سال کیری اوورساڑھے 11 ایم اے ایف سے زائد ہوگا۔ جس سے قلت کم ہوکر 20 فیصد تک رہنے کی توقع کی جاسکتی ہے۔معلوم ہوا ہے کہ تربیلا ڈیم بھرنے سے یکم ستمبر2020 کو جمع شدہ پانی 6 ایم اے ایف،منگلا میں سطح 1240 فٹ ہونے پر7 اعشاریہ 35 ایم اے ایف جبکہ چشمہ بیراج کی جھیل میں 2 لاکھ 70 ہزار ایکڑ فٹ (صفراعشاریہ 27 ایم اے ایف) کے ساتھ مجموعی ذخائر 13 اعشاریہ 62 ایم اے ایف ہوں گے۔ جن میں سے 30 ستمبر تک صوبوں کی ضرورت کے لئے 2 ایم اے ایف فراہم کرنے کے بعد 11 اعشاریہ 62 ایم اے ایف یکم اکتوبر کو شروع ہورہے، جو ربیع کے لئے بچے گا۔ چاروں صوبوں کو ربیع میں گندم،چنا، سرسوں اور دیگر فصلوں کے لئے 3 کروڑ 60 لاکھ ایکڑفٹ پانی کی ضرورت ہوتی ہے جس میں سے 24 ایم اے ایف دریاؤں جبکہ 12 ڈیموں سے ملتا ہے، لیکن گزشتہ 20 سال سے دریاؤں کا بہاؤ 18 سے 20 ایم اے ایف تک محدود ہوچکا ہے جس کے باعث اس سال ربیع میں 18 سے 20 فیصد کی قلت کسانوں کو برداشت کرنا ہوگی تاہم اگر سال رواں کی طرح جنوری،فروری اور مارچ میں غیر متوقع بارشیں اگلے برس بھی ہوگئیں تو قلت اس سے کم ہوسکتی ہے۔ممبر ارسا ارشاد راؤ نے بتایا کہ تربیلا میں 60 لاکھ ایکڑ فٹ ذخیرے کے ساتھ یہ ڈیم 28 اگست کو مکمل بھرجائے گا جبکہ منگلا ڈیم اپنی زیادہ سے زیادہ سطح 1242 فٹ سے 3 فٹ نیچے رہ گیا ہے جس کو مکمل بھرنے کے لئے 1 لاکھ 30 ہزار کیوسک پانی کی ضرورت ہے اور اس وقت روزانہ 10 ہزار کیوسک سٹور کیا جارہا ہے۔اس لحاظ سے اگردریائے جہلم میں پانی کا موجودہ بہاؤ برقرار رہا تو 10 ستمبرتک یہ ڈیم بھی بھر جائے گا لیکن دریا میں پانی کی آمد کم ہو بھی گئی تو1240 فٹ کی حد پار ہونے کے قوی امکانات ہیں۔

Sharing is caring!

Comments are closed.