لاہور ہائیکورٹ نے منی لانڈرنگ کیس میں شہبازشریف کو مرکزی ملزم قراردے دیا

لاہور (نیوزڈیسک) لاہور ہائیکورٹ نے منی لانڈرنگ انکوائری میں شہبازشریف کو مرکزی ملزم قراردے دیا۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ لاہور ہائیکورٹ نے منی لانڈرنگ کیس کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔کیس کے تحریر فیصلے میں سابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف مبینہ منی لانڈرنگ کیس میں مرکزی ملزم نامزد کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ حمزہ شہباز شریف بھی اس کیس میں ملزم ہیں اور اس وقت زیرِ حراست بھی ہیں۔

حمزہ شہباز کو لاکھوں ڈالرز کی منتقلی کی تفصیلات سامنے آئی تھیں ، نیب نےٹرانزیکشن سےمتعلق رپورٹ عدالتمیں جمع کروا دی۔ عدالت میں جمع کروائی گئی رپورٹ کے مطابق حمزہ شہبازکی ٹرانزیکشنز 2013ء سے 2017ء کے درمیان کی ہیں اور انہوں نے 7 کروڑ 87 لاکھ 50 ہزار کی رقم تحفے کے طور پر وصول کی۔ نیب رپورٹ کے مطابق 2007ء میں محبوب نے 2 جولائی کو1 لاکھ 65 ہزار 965 ڈالرز ، ہارون یوسف نے 2 جولائی کو1 لاکھ 99 ہزار 965 ڈالرز اور محمد رفیق نے 6 جولائی کو 1 لاکھ 65 ہزار 925 ڈالر منتقل کیے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ ہارون نے دوبارہ 11 جولائی2007ء کو 1لاکھ 27 ہزار 965 ڈالر ، محبوب نے 18جولائی کو 1لاکھ 65 ہزار 980 ڈالرز اور 19 جولائی کو 1 لاکھ 99 ہزار 980 ڈالر منتقل کیے۔ نیب نے بتایا کہ 2007ء میں ہی منظوراحمد نے 23 جولائی کو1 لاکھ 67ہزار 980 ڈالرز ، ناصر نے 23 ستمبر کو 1لاکھ 65 ہزار 976 ڈالرز ، محبوب نے 4 اکتوبر کو 79 ہزار 980 ڈالرز اور 23 اکتوبر کو 1 لاکھ 65 ہزار 980 ڈالرز منتقل کیے۔ منظور احمد نے پھر 5 دسمبر2007ء میں ہی 1 لاکھ 63 ہزار 960 ڈالرز ، عرفان نے جنوری 2008 کو 1 لاکھ 65 ہزار 967 ڈالرز جبکہ غلام رسول اور قدیر احمد نے 29 جنوری 2008ء کو 79 ہزار 960 ڈالر منتقل کیے۔ رپورٹ کے مطابق غلام رسول نے دوبارہ یکم فروری 2008ء کو 2 لاکھ 51 ہزار ڈالر کی 2 ٹرانزیکشن کیں جبکہ محمد شکور نے فروری 2008ء میں 1 لاکھ 39 ہزار 55 ڈالر کی رقم منتقل کی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں