گریڈ 1 سے 15 تک تمام عہدے مقامی افراد کو دیے جائیں۔۔۔ تبدیلی سرکار کے دور میں انوکھا حکم جاری ہو گیا

اسلام آ باد ( ویب ڈیسک ) قومی ترقیاتی کونسل کے ایک اور اہم فیصلے پر عمل درآمد کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں ۔اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے جاری کردہ آفس میمو ر نڈم کے مطا بق اب بلوچستان میں وفاقی ملازمتوں میں صرف مقامی افراد بھرتی کیے جا سکیں گے۔ یہ ہدایت کی گئی ہے کہ گریڈ ایک سے 15 کی آسامیوں پر مقامی افراد کی بھرتی یقینی بنائی جائے۔

گریڈ ایک سے پانچ تک کی آ سا میوں پر قرعہ اندازی کے ذ ریعے بھر تیاں کی جائیں ۔ فیصلہ وزیر اعظم کی زیر صدارت قومی ترقیاتی کونسل کے پہلے اجلاس میں کیا گیا تھاجو آٹھ اگست کو ہوا تھا۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے تمام وزارتوں اور ڈویژنوں اور ماتحت اداروں کو اس حکم پر عمل در آ مد کو یقینی بنا نے کی ہدا یت کی ہے۔ بلوچستان جو پاکستان کا اہم ترین صوبہ ہے ۔ پاکستان میں معدنیات کے حوالے سے اس صوبہ کی نہایت خاص حیثیت ہے ۔ جغرافیائی حوالے سے بھی اس صوبہ کی بہت زیادہ اہمیت ہے ۔ اس کے باوجود یہ پاکستان کا سب سے پسماندہ صوبہ کیوں ہے ۔ رقبے کے لحاظ سے بلوچستان کو پاکستان کے سب سے بڑے صوبے اور آبادی کے لحاظ سے سب سے پہلے کم آبادی والا یہ صوبہ غربت کا شکار کیوں ہے پاک فوج میں خدمات سرانجام دینے کے لیئے بلوچ رجمنٹ کے نام سے اس صوبہ کی ملک کے لیئے خدمات کسی سے پوشیدہ نہیں ۔ لیکن بے روزگاری کا یہ عالم ہے کہ ہر دس میں سے سات لوگ بے روزگار ہیں ۔ یہ کیسا صوبہ ہے جو دوسرے صوبوں کو روزگار فراہم کرتا ہے لیکن یہاں کے عوال خود بے روزگار ہیں ۔ وہ کون لوگ ہیں جنہوں نے اس صوبہ میں شیعہ،سنی فسادات کو ہوا دینے کا ٹھیکہ لیا ہوا ہے ۔ وہ کون لوگ ہیں جنہوں نے یہاں کے رہنے والے بھائیوں میں بلوچ اور پشتون کے نام پر دوریاں پیدا کر رکھی ہیں ۔ وہ کون لوگ ہیں جو دہشت گردوں کے سہولت کار ہیں ۔ وہ کون لوگ ہیں جو سرداروں اور عوام کو ایک دوسرے سے متنفر کرنے میں کردار ادا کرتے ہیں ۔ یہاں کے عوام میں برابری کی بنیاد پر جینے کا طریقہ اور سلیقہ کیوں پیدا نہیں ہوتا ۔ اس صوبہ کے پڑھے لکھے نوجوانوں کو سرکاری ملازمتوں میں ان کا حصہ اور حق کیوں نہیں ملتا۔

اس اہم ترین صوبہ کی ترقی کے لیئے مطلوبہ ترقیاتی فنڈ کیوں نہیں دیا جاتا ۔ اس صوبہ کے عوام کو تعلیم اور صحت کے شعبوں میں کیوں نظر انداز کیا جاتا ہے ۔ یہ ہیں وہ وجوہات جن کی بناء پر بیرونی طاقتیں یہاں امن قائم نہیں ہونے دیتیں ۔ پاک فوج کے جوان اور پولیس اہلکارو جانوں کی قربانیاں دے رہے ہیں تاکہ صوبہ میں امن قائم ہو ۔ اس کے باوجود ہر وقت کہیں نہ کہیں امن ق امان کا مسئلہ درپیش ہوتا ہے ۔ اور ان تمام جانی قربانیوں کے باوجود بلوچستان کے عوام مطمئن نہیں ہیں ۔ پاک فوج کا کام تو وہ کر رہے ہیں لیکن حکومتیں کیا کر رہی ہیں ہر حکومت نے بلوچستان کو نظر انداز کیا ہے ۔ ہر حکومت اپنے اقتدار کو دوام دینے کے لیئے یہاں کے ان سیاستدانوں کے ساتھ ساز باز کرتی ہے جو برائے فروخت ہوتے ہیں ۔ المیہ یہ ہے کہ جن سیاستدانوں کا مقصد اس صوبہ اور عوام کی ترقی ہوتا ہے ان کو پیچھے دھکیل دیا جاتا ہے ۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ میڈیا نے بھی بلوچستان کے بارے میں آنکھیں بند کر رکھی ہیں اور یہ تمام صورتحال آج کل سے نہیں ہے یہ عرصہ دراز سے جاری ہے ۔ اس کو قومی جرم کہیں یا کچھ بھی کہیں لیکن کیا بلوچستان صرف اس وقت خبروں کی زینت بنتا ہے جب وہاں کوئی واقعہ،کوئی بڑا حادثہ،زلزلہ یا سیلاب آجائے;238;بلوچستان کے عوام تو ہر وقت مصائب کا شکار رہتے ہیں ۔ لیکن افسوس کبھی کسی نے اس اہم ترین صوبے کے عوام کی مشکلات کو اس قابل نہیں سمجھا جس پر بات کی جا سکے ۔ جہاں تک بلوچستان کے سرداروں کو تعلق ہے تو انہوں نے اگرچہ قیام پاکستان سے لے کر آج تک پاکستان کا دیا ہے ۔ اور صوبہ کی ترقی کے لیئے کچھ کوششیں بھی کی ہیں لیکن انہوں نے وہ حق ادا نہیں کیا جو ان کو کرنا چاہیئے تھا۔ بلکہ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ صوبہ کو پس ماندہ رکھنے میں ان کا بھی بڑا کردار ہے۔

اس طرح امن و امان کے قیام میں بھی ان کو جو کردار ادا کرنا چاہیئے وہ پورے طریقے سے ادا نہیں کر پا رہے یا ادا نہیں کر رہے ۔ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے سیاستدان یا تو ذاتی مفادات کے حصار میں بند ہیں یا وہ کچھ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں ۔ وہ تو اس قابل بھی نہیں ہیں کہ آئین کے تحت اپنے صوبے کے حقوق کے لیئے پارلیمنٹ کے اندر ہی سہی کوئی آواز بلند کر سکیں ۔ ذاتی مفادات کے حصول کے بعد جب وہ واپس بلوچستان جاتے ہیں تو اپنے ساتھ وفاقی حکومت کے وعدوں کی ایک بوری لے جاتے ہیں ۔ جو وفاقی حکومت کے ان وعدوں سے بھری ہوتی ہے جن میں اکثریت کی کبھی تکمیل نہیں ہوئی ۔ نلوچستان کے عوام کو طفل تسلیاں دے کر ہر حکومت اپنی مدت پوری کرتی ہے ۔ اگر وہاں کے سیاستدان فوج کے شانہ بشانہ صوبے کی ترقی اور عوام کی خوشحالی کے لئے کمر کس لیں اور ذاتی مفادات کو پس پشت ڈالیں تو کوئی وجہ نہیں کہ کوئی بھی حکومت بلوچستان کے مسائل سے پہلو تہی کر سکے ۔ لیکن اس کے لیئے قربانی دینی ہوگی اور قربانی اپنے ذاتی مفادات کی دینی ہوگی ۔ آئینی طریقہ سے اپنے حقوق کے لیئے کوشش کرنا ہر شہری کا حق ہے ۔ بلوچستان کے نوجوان کا حق ہے کہ آئین کے مطابق اس کو سرکاری ملازمتوں میں حصہ ملے ۔ زرا تجزیہ کر لیں کہ بیورو کریسی سے لے کر عام کلرک تک سرکاری ملازمتوں میں بلوچستان کے کتنے افراد ہیں ۔ اتنا کم تناسب شاید ہی کسی صوبہ کا ہو ۔ بلوچستان کے عوام کو روزگار دلایا جائے ۔ سی پیک،گوادر اور دیگر منصوبوں میں سب سے زیادہ ملازمتیں اور روزگار کے مواقع بلوچستان کے لوگوں کو دیئے جائیں ۔ تعلیم اور صحت کے مسائل اس صوبہ میں اور بھی زیادہ گھمبیر ہیں ۔ اس پر خصوصی توجہ دی جائے ۔ پاک فوج نے اس میدان میں بھی صوبہ کے عوام کے لئے گرانقدر خدمات سرانجام دی ہیں اور دے رہی ہے لیکن افسوس کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں اس طرف توجہ دینے سے گریزاں ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں