بریکنگ نیوز: تبدیلی والوں کا شاندار کارنامہ ۔۔۔ پاکستان کے اہم ترین شہر میں نیا ڈیم بنانے کا اعلان ہو گیا

کراچی (ویب ڈیسک) وفاقی وزیر آبی وسائل فیصل واوڈا نے سندھ کےعوام کوخوشخبری سناتے ہوئے سندھ بیراج بنانےکااعلان کردیا اور کہا پانی کا مسئلہ حل کرنے جارہے ہیں، عمران کریڈٹ نہیں چاہتے مسائل کا حل چاہتے ہیں۔تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر آبی وسائل فیصل واوڈا نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کراچی کے پانی کا مسئلہ سندھ حکومت اور کراچی مل کر حل کرنا چاہتے ہیں، عمران خان سندھ کے مسائل کیلئے فکرمند ہیں۔

وزیر آبی وسائل کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت کیساتھ مل کرپانی کامسئلہ حل کرنےکی کوشش کر رہے ہیں، پیپلز پارٹی اور ہماری سیاست الگ ہے مل کر کام کریں گے، سیاست اپنی جگہ ہے، مسائل سےمتعلق کوئی تعصب نہیں کررہے۔ فیصل واوڈا نے کہا جب ملک اورترقی کی بات ہوتوکوئی سیاست نہیں ہوگی نہ کرنےدیں گے ، صوبوں کے مسائل اور ملکی سلامتی کی بات ہو تو ہم سب ایک ہیں۔وفاقی وزیر نے اعلان کیا کہ کوٹری بیراج سے45کلومیٹردوردریائےسندھ پرایک اوربیراج بنائیں گے، عمران خان کوکریڈٹ نہیں چاہیےمسائل کاحل چاہیے، صوبےکی ترقی یاملک کی ترقی میں کوئی فرق نہیں ہوناچاہئے۔ انھوں نے کہا سہیل انورسیال سےدرخواست کی ہم سیاسی تعصب نہیں کررہے، ہم کھلےدل کےساتھ آگے بڑھ رہےہیں، وزیراعظم صاحب کی پوری اجازت سےکام کیےجارہےہیں، ان کی ہدایت ہےکہ حکومت سندھ سے فاصلے کم کئے جائے اورسب کوساتھ لیکرچلیں۔ آج میرےلئےایک اچھادن ہے، سندھ کےپانی کیلئےآج کےدن ایک اچھافیصلہ ہواہے، یہ وقت پوائنٹ اسکورنگ کانہیں ہے۔یاد رہے وفاقی حکومت نے ٹھٹھہ کے نزدیک ’’سندھ بیراج‘‘ تعمیر کرنے کی منظوری دی تھی، اس منصوبے کو ’’کوسٹل بیراج‘‘ بھی کہا جاتا تھا۔ یہ منصوبہ ٹھٹھہ کے جنوب میں 65کلو میٹر کے فاصلے پر اور کراچی کے مشرق میں 130کلو میٹر کے فاصلے پر تعمیر کیا جا رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق انڈس ڈیلٹا میں سمندری پانی روکنے کیلئے دریائے سندھ پر ٹھٹھہ کے نزدیک تعمیر کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔

سندھ بیراج سمندر سے 45کلو میٹر اوپر کی طرف تعمیر کیا جائے گا، یہ کراچی میں پینے کے اضافی پانی کی ضرورت کا اہتمام، انڈس ڈیلٹا میں سمندری پانی کی چڑھائی کو روکنے، زرعی اراضی کو سمندر برد ہونے سے بچانے اور سمندر میں مینگروز کے جنگلات کیلئے مددگار ثابت ہوگا۔ علاوہ ازیں کوٹری بیراج کے نچلے علاقوں میں پانی کے مسائل حل ہونگے۔ وزیراعظم عمران خان نے دریائے سندھ پر سندھ بیراج تعمیر کرنے کی منظوری دی ہے۔ واپڈا کے مطابق سندھ بیراج کا منصوبہ ڈائون اسٹریم کوٹری میں پانی کی فراہمی کے پرانے مسئلے (پانی معاہدے 91ء کے تحت 10ایم اے ایف پانی ڈائون اسٹریم کوٹری میں چھوڑنا تھا،) اور کراچی میں پانی کی کمی کو مدنظر رکھ کر تیار کرنیکا فیصلہ کیا گیا ہےاور یہ منصوبہ تیزی سے مکمل کرنیکی حکمت عملی تیار کی گئی ہے تاکہ یہ 2024ء تک مکمل ہو جائے۔ آئندہ ماہ واپڈا فزیبلٹی اسٹڈی پر کام شروع کر دیگا اور اسی سال دسمبر تک عالمی کنسلٹنٹس کی طرف سے فزیبلٹی اسٹڈی کا جائزہ مکمل کیا جائیگا۔ دسمبر 2021ء تک منصوبے کا تفصیلی انجینئرنگ ڈیزائن مکمل ہونے کے بعد سندھ بیراج پر تعمیراتی کام جنوری 2022ء تک شروع ہوگا۔ جن مقاصد کیلئے یہ منصوبہ شروع کیا جا رہا ہے انکی سندھ بھر میں ہر کوئی حمایت کرے گا، کیونکہ اس میں کوئی شک نہیں کہ کراچی کو پانی کی کم فراہمی کا مسئلہ کافی عرصے سے درپیش ہے اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ کراچی کی آبادی بڑی تیزی سے بڑھ رہی ہے، کراچی میں نہ صرف پاکستان کے مختلف صوبوں کے باسی بڑے پیمانے پر روزگار کی تلاش میں منتقل ہو رہے ہیں بلکہ سندھ بھر میں پینے کے پانی کا مسئلہ پیدا ہونے علاوہ ازیں اندرون سندھ صنعتیں نہ ہونے کے برابر ہونے کے باعث دیہی آبادی مسلسل کراچی منتقل ہوتی رہی ہے۔

بات یہیں ختم نہیں ہوتی بلکہ کراچی میں بیرونی ممالک کے لاکھوں غیر قانونی لوگ آباد ہیں، ان اسباب کی وجہ سے کافی عرصے سے کراچی میں کئی مسائل کے علاوہ پینے کے پانی کا مسئلہ بڑھتا رہا ہے۔ جب 1991ء میں صوبوں کے درمیان پانی کا معاہدہ ہوا تو اس میں کراچی شہر کیلئے پانی کا کوٹہ الگ مقرر کیا گیا تھا مگر جس انداز میں کراچی کی آبادی بڑھ رہی ہے، پانی کا یہ کوٹہ کراچی کی ضرورتیں پوری نہیں کر سکتا۔ اسی وجہ سے چند سال پہلے سندھ کے پانی کے حصے سے کراچی کیلئے پانی کی فراہمی میں کسی حد تک اضافہ کیا گیا، یہ پانی ٹھٹھہ کیلئے مقرر شیئر سے کراچی کو فراہم کیا گیا۔ جیسا کہ حال ہی میں اسلام آباد اور پنڈی کیلئے پانی کی فراہمی میں اضافہ کیا گیا ہے تو اسی اصول پر کراچی کو پانی کی ترسیل کے بارے میں عمل کیوں نہیں کیا جاتا؟ اسلام آباد کو پانی کی فراہمی میں اضافہ اس اصول کے تحت کیا گیا کہ اسلام آباد میں سارے صوبوں کے لوگ رہتے ہیں لہٰذا یہ طے کیا گیا کہ جس صوبے کے لوگ جس تعداد میں اسلام آباد میں آباد ہیں، اسی تناسب سے ان صوبوں کے پانی کے حصے سے یہ حصہ کاٹ کر اسلام آباد کو فراہم کیا جا رہا ہے۔ اس حساب سے تو کراچی میں بھی سارے صوبوں کے لوگ بڑے پیمانے پر آباد ہیں تو اسی اصول کے تحت کراچی کے پانی میں بھی اضافہ کیا جانا چاہئے۔ دوسری بات یہ ہے کہ وفاقی حکومت، حکومت سندھ اور کراچی کی سیاسی قیادت کو اب آواز اٹھانا چاہئے کہ کراچی میں غیر قانونی طور پر آباد غیر ملکیوں کو واپس اپنے ملک بھیجا جائے جبکہ اس سلسلے میں سپریم کورٹ چیف جسٹس کی سربراہی میں فل بینچ 2010ء اور 2011ء میں فیصلہ دے چکی ہے کہ حکومت کو چاہئے کہ ان غیر قانونی غیر ملکیوں کو فوری طور پر کیمپوں میں منتقل کرے اسکے بعد انہیں واپس بھیج دیا جائے۔ اس مرحلے پر یہ بات بھی قابل زکر ہے کہ ’’سندھ بیراج‘‘ منصوبہ ’’کوسٹل بیراج‘‘ کے نام سے 1970ء میں سندھ کے اس وقت کے آبپاشی کے سیکرٹری وہاب شیخ نے فضل اکبر کمیٹی کے سامنے رکھا تھا۔ یہ کمیٹی حکومت نے صوبوں کے درمیان پانی کی منصفانہ تقسیم کے لئے بنائی تھی مگر اس کمیٹی کی رپورٹ پر آج تک عمل نہیں ہوا۔ اور اس تجویز کیساتھ کمیٹی کے سامنے یہ تجویز بھی رکھی گئی تھی کہ ایک اور کوسٹل بیراج سندھ کے کچے کے علاقے اور جنگلات کیلئے بھی تعمیر کیا جائے تاکہ وہاں غیر آباد لاکھوں ایکڑ زمین آباد کی جاسکے مگر اس تجویز پر آج تک اعلیٰ سرکاری حلقوں کی طرف سے کبھی غور نہیں کیا گیا۔ سندھ بیراج والی تجویز کے بارے میں میری سندھ کے کئی آبی ماہرین اور سیاسی حلقے اس منصوبے کو سراہا رہے ہیں وہاں ان میں سے کچھ کو اس منصوبے پر کچھ اعتراضات بھی ہیں۔ بہرحال سندھ کے اکثر حلقے اس بات پر متفق ہیں کہ یہ منصوبہ اچھا نظر آتا ہے مگر ملک کے آئین اور رول آف بزنس کے تحت ایسا کوئی بھی منصوبہ منظوری سے قبل سینٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی میں جاتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں