بریکنگ نیوز: اقوام متحدہ کے بعد کینیڈا میدان میں آ گیا ۔۔۔ کشمیر کی صورت حال اور مودی سرکار کے چھکے چھڑوا دینے والا اعلان کر دیا

اسلام آباد (نیوز ڈیسک آن لائن )کینیڈین وزیر خارجہ کرسٹینا فری لینڈ نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر اظہار تشویش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم ساری صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں ۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کینیڈین ہم منصب سے ٹیلی فونک رابطہ کیا اور انہیں سلامتی کونسل










کے آج کے اجلاس سے آگاہ کیا ۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بھارت مقبوضہ جموں و کشمیر میں نہتے کشمیریوں پر ظلم ڈھا رہا ہے،بھارت کی مقبوضہ کشمیرمیں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں جاری ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ بھارت نے یک طرفہ اقدام سے خطے کے امن وامان کوشدیدخطرات سے دوچارکردیا،مقبوضہ کشمیرمیں مسلسل کرفیو سے خوراک، ادویات ، بچوں کادودھ تک میسرنہیں،مقبوضہ کشمیرمیں ٹیلی فون ،انٹرنیٹ ،ذرائع مواصلات پرمکمل پابندی عائد ہے۔دوسری طرف مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر سلامتی کونسل کا اجلاس ختم ہوگیا، بھارت کیخلاف فیصلہ سنا دیا گیا، اجلاس کے اختتام پر چینی مندوب نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ سیکیورٹی کونسل اجلاس میں کشمیر کےمعاملے پر تفصیلی بات ہوئی، کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال پر ارکان نے گہری تشویش کا اظہار کیا، کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کے چارٹر اور دو طرفہ معاہدہ کے تحت حل ہونا چاہیے، بھارتی اقدام نے چینکی خود مختاری کو چیلنج کیاہے، سلامتی کونسل ارکان کو بھارتی اقدامات پر تشویش ہے۔تفصیلات کے مطابق مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بھارتی اقدام اور اس کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا بند کمرہ اجلاس ختم ہو گیا ہے۔اجلاس میں اقوام متحدہ کے 5 مستقل جبکہ 10 مستقل ارکان نے شرکت کی۔ اجلاس کی کاروائی کے حوالے سے چینی مندوب نے بتایا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے15اراکین ممالک کےمندوب نے اجلاس میں شرکت کی۔سیکیورٹی کونسل اجلاس میں کشمیر کےمعاملے پر تفصیلی بات ہوئی۔ کشمیر کی صورتحال پر ارکان نے گہری تشویش کا اظہار کیا۔ اس حوالے سے سیکیورٹی جنرلاقوام متحدہ نے بھی کچھ دن پہلے بیان دیا تھا۔ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال پر ارکان نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کے چارٹر اور دو طرفہ معاہدہ کے تحت حل ہونا چاہیے۔سیکیورٹی کونسل اجلاس میں کشمیر کےمعاملے پر تفصیلی بات ہوئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں