رات گئے بڑی بریکنگ نیوز، بائے بائے مسلم لیگ (ن) ۔۔۔؟؟ خواجہ سعد رفیق اور جاوید لطیف نے شریف فیملی کو بڑا سرپرائز دے دیا

اسلام آباد (نیوز ڈیسک ) سابق حکمران جماعت مسلم لیگ ن ان دِنوں شدید مشکلات کا سامنا کر رہی ہے اور یہ مشکلات روز بہ روز بڑھتی ہوئی نظر آ رہی ہیں۔ پہلے سے ہی مشکلات میں گِری مسلم لیگ ن کے لئے اب ایک اور بری خبر آ گئی ہے اور مسلم لیگ ن


میں اندرونی اختلافات کھل کر سامنے آ گئے۔ پارٹی اجلاس کے دوران مسلم لیگ ن کے رہنماؤں خواجہ سعد رفیق اور میاں جاوید لطیف نے پارٹی پالیسی پر کڑی تنقید کی۔ مسلم لیگ ن کے اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آئی تو پارٹی کے اندر جاری کشمکش بھی کھل کر سامنے آگئی۔ اجلاس کے دوران خواجہ سعد رفیق نے پارٹی پالیسی پر کڑی تنقید کی ، انہوں نے حنیف عباسی اور حمزہ شہباز کے ساتھ اپنائے جانے والے رویے کی مذمت کی اور عہدوں کی بندر بانٹ کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ اجلاس کے دوران میاں جاوید لطیف نے میزبانوں کی قطار میں بیٹھے ارکان کوتنقید کا نشانہ بنایا اور واضح کردیا کہ نواز شریف کے علاوہ کسی کے بیانیے کو تسلیم نہیں کرتے۔ دوسری جانب مسلم لیگ ن کے مشترکہ پارلیمانی پارٹی اجلاس میں رکن قومی اسمبلی میاں جاوید لطیف نے پارٹی میں اسٹیبلشمنٹ کی موجودگی کی نشاندہی کی اور ذمہ داران کو کھری کھری سنادیں۔ سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی زیر صدارت مسلم لیگ ن کی سینیٹ اور قومی اسمبلی کی پارلیمانی پارٹی کا مشترکہ اجلاس ہوا جس میں کافی گرماگرمی دیکھنے میں آئی۔ شیخوپورہ سے رکن قومی اسمبلی میاں جاوید لطیف نے میزبانوں کی قطار میں بیٹھے لیگی ارکان کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ پارٹی میں بھی اسٹیبلشمنٹ موجود ہے، ہم چار پانچ لوگوں کی اس اسٹیبلشمنٹ کو نہیں مانتے۔ نواز شریف کے بیانیے کے سوا کسی کے بیانیے کو نہیں مانتے جو اس بیانیے کو نہیں مانے گا وہ ختم ہوجائے گا، ہم نے الیکشن مشکل حالات میں لڑا لیکن نواز شریف کے بیانیے کو نہیں چھوڑا۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ نواز شریف کی قربانیوں کا پارٹی نے کیا صلہ دیا؟۔ میاں جاوید لطیف نے پارٹی عہدوں کی تقسیم پر بھی تنقید کی اور کہا کہ ان لوگوں کو عہدے ملنے چاہئیں جو حقیقی کارکن ہیں اور جنہوں نے پارٹی کیلئے قربانیاں دی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں