اس کی کسر رہ گئی تھی: ن لیگ کو ابتک کا بڑا دھچکا، دبنگ رہنما نے تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کرلی، تختِ لاہور ہِل کر رہ گیا

لاہور (نیوز ڈیسک آن لائن ) ایک وقت تھا جب لاہور مسلم لیگ ن کا ناقابل تسخیر قلعہ تھا اور لاہور مسلم لیگ ن کلین سویپ کیا کرتی تھی لیکن پاکستان تحریک انصاف نے ن لیگ کے اس مضبوط قلعے میں ایسی دراڑ ڈالی ہے کہ سب کچھ بدل کر رہ گیا ہے اب پاکستان مسلم لیگ ن کے نامور رہنما


زکریا بٹ نے پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔ زکریا بٹ مسلم لیگ کے ضلع لاہور سے نامور رہنما تھے۔ میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ زکریا بٹ نے گذشتہ روز مقامی ہوٹل میں ایک افطار تقریب میں وزیراعظم عمران خان کی معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان سے ملاقات کی جس کے بعد انہوں نے پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت کا باقاعدہ طور پر اعلان کر دیا۔زکریا بٹ اس سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی لاہور کے جنرل سیکرٹری بھی رہ چکے ہیں۔ خیال رہے اس سے قبل بھی ن لیگ میں فارورڈ بلاک بننے کی خبریں گرشد کرتی رہی ہیں۔ نواز شریف کے دوبارہ جیل جانے کےاور شہباز شریف کے بیرون مملک قیام بڑھا لینے کے بعد پاکستان مسلم لیگ (ن) میں بھونچال سا آگیا تھا اور جنوبی پنجاب سمیت دیگر حلقوں سے درجنوں ایم این ایز اور ایم پی ایز نے الگ دھڑا بنانے کے لئے ملاقاتیں بھی شروع کردی تھیں اور ادھر مرکزی قیادت نے شہبازشریف کی غیر موجودگی میں پبلک اکائونٹس کمیٹی کی چیئرمین شپ رانا تنویر کو دینے کا حتمی فیصلہ کیا اور دوسری جانب پارٹی کو تقسیم کرتے ہوئے مریم نواز ، احسن اقبال و دیگر میں عہدوں کی بھی بندر بانٹ کردی گئی ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ شہباز شریف راتوں رات پارٹی کا شیرازہ بکھرنے پر کافی پریشان ہوئے تھے۔۔اس حوالے سے میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ مسلم لیگ ن کے کئی ارکان پارٹی کی حالیہ تبدیلیوں کے بعد حکومت سے مسلسل رابطے میں ہیں۔اکثر لیگیوں کا خیال تھا شہباز شریف اہم حلقوں سے معاملات طے کر لیں گے،اس حوالے سے شہباز شریف کو یقین دہانی بھی کروائی گئی تھی کہ وہ معاملات کو سنبھال لیں گے۔مگر شہباز شرہف کی بیرون ملک روانگی اور مسلم لیگ ن میں نواز شریف کے ساتھیوں کی پارٹی کے اہم عہدوں پر نامزدگی سے کئی ارکان مایوس ہو گئے ہیں۔مسلم لیگ ن کے 10 سے 12 ایم پی ایز تحریک انصاف سے مسلسل رابطوں میں ہیں ان میں سے پانچ ارکان وہ بھی ہیں جنہوں نے اسپیکر الیکشن میں پارٹی امیدوار کی بجائےچوہدری پرویز الہیٰ کو ووٹ دیا تھا۔ یہ ارکان گرین سگنل ملنے پر فارورڈ بلاک یا اپنی پارٹی سے الگ ہو سکتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں