ٹرمپ تو واقعی وعدے کا سچا نکلا: پاکستان کے حوالے سے بڑا حکم جاری کر دیا

واشنگٹن (ویب ڈیسک آن لائن) وزیر اعظم عمران خان کے دورہ امریکہ کے مثبت نتائج آنا شروع ہو گئے ہیں اور ٹرمپ انتظامیہ نے پاکستان کے حوالے سے بڑا اعلان کردیا ہے۔ پاکستان اور امریکا کے درمیان سفارتی تعلقات پر جمی برف تیزی سے پگھل رہی ہے اور امریکہ نے پاکستان پر


عائد سفارتی و سفری پابندیاں ختم کرنے کا اعلان کر دیا، پابندی 2018 میں عائد کی گئی تھی، پابندی کے تحت پاکستانی سفارتی اہلکار بنا اجازت کے 25 کلومیٹر کی حدود سے باہر کا سفر نہیں کر سکتے تھے۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان اور امریکا کے درمیان سفارتی تعلقات پر جمی برف تیزی سے پگھل رہی ہے۔ وزیراعظم عمران خان کے دورہ امریکا کے بعد سے دونوں ممالک کے تعلقات میں واضح بہتری کے آثار دیکھنے میں آئے ہیں۔ تعلقات میں بہتری آنے کے باعث اب امریکا نے پاکستان پر عائد کی گئی سفارتی و سفری پابندیاں ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ امریکا کی جانب سے پاکستان پر 2018 میں سفارتی و سفری پابندیاں عائد کی گئی تھیں۔ عائد پابندیوں کے مطابق امریکا میں تعینات پاکستانی سفارت کاروں اور سفارتی اہلکاروں کو سفر کیلئے امریکا حکام کی اجازت درکار تھی۔پاکستانی سفارت کار اور اہلکار صرف 25 کلومیٹر کی حدود کے اندر آزادانہ طور پر نقل و حرکت کر سکتے تھے۔ پاکستانی سفارت کاروں اور اہلکاروں کو 25 کلومیٹر کی حدود سے باہر سفر کرنے کیلئے امریکا حکام سے رابطہ کرنا پڑتا تھا اور ان کی اجازت کے بعد ہی دور دراز کے علاقوں کا سفر کر سکتے تھے۔ اس پابندی کے باعث بھی پاکستان اور امریکا کے تعلقات مزید کشیدہ ہو گئے تھے۔تاہم اب امریکا نے پاکستان پر عائد کی گئی یہ پابندی فوری ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ پابندی کے خاتمے کا اعلان امریکا کے دفتر خارجہ کی جانب سے کیا گیا ہے۔ دوسری جانب امریکی دفتر خارجہ کی جانب سے جاری ایک اور بیان میں مقبوضہ کشمیر کے تنازعے پر بھارت کے دعووں کو بے بنیاد اور جھوٹا قرار دیا گیا ہے۔ امریکا نے واضح کیا ہے کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خودمختار حیثیت ختم کرنے کا فیصلہ تن تنہا کیا ہے۔ اس حوالے سے بھارت کی حکومت نے امریکی حکومت سے کسی قسم کی مشاورت نہیں کی تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں