تجارتی تعلقات ختم ہونے سے زیادہ اور کمر توڑ نقصان کسے ہو گا ؟ بی بی سی کی ایک خصوصی رپورٹ

لاہور (ویب ڈیسک) کشمیر کے مسئلے پر حالیہ کشیدگی سے قبل پاکستان اور انڈیا کے درمیان تجارتی عمل جاری تھا۔ دونوں ممالک دو زمینی راستوں یعنی لاہور میں واہگہ اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے ذریعے اشیا کی تجارت کرتے رہے ہیں۔پاکستانی حکومت نے انڈیا کے ساتھ سفارتی تعلقات محدود کرنے کے


نامور صحافی عمر دراز ننگیانہ بی بی سی کے لیے اپنی ایک خصوصی رپورٹ میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ ساتھ ہی اس تجارتی عمل کو بھی معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پاکستان کی طرف سے یہ فیصلہ انڈین حکومت کی جانب سے انڈیا کے زیر انتظام جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کے آرٹیکل 370 اور 35- A کے خاتمے کے ردِ عمل میں کیا گیا ہے۔تاہم سوال یہ ہے کہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان ہونے والی تجارت کا حـجم کیا اس قدر زیادہ ہے کہ پاکستان کی طرف سے تجارت کی معطلی سے انڈیا کو زیادہ پریشانی ہو سکتی ہے؟ اور اگر نہیں تو نقصان کس کا ہو گا؟پاکستان میں سرکاری حکام اور کاروباری شخصیات کا، جو پاکستان اور انڈیا کے درمیان ہونے والی تجارت کے بارے میں جانتے ہیں، مؤقف ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی تجارت ان کے مجموعی تجارتی حجم کے مقابلے میں انتہائی کم ہے۔انٹرنیشنل ٹریڈ سنٹر یعنی عالمی مرکزِ تجارت اقوامِ متحدہ اور ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کے مشترکہ مینڈیٹ کے ساتھ عالمی تجارت کے فروغ کے لیے کام کرتا ہے۔آئی ٹی سی نے خصوصی تجارتی نقشہ بنا رکھا ہے جس کے ذریعے دنیا کے 220 ممالک کے درمیان تمام 5300 اشیا میں ہونے والی تجارت کے ماہانہ، سہ ماہی اور سالانہ اعداد و شمار رکھے جاتے ہیں۔ کسی بھی دو ملکوں کے درمیان باہمی تجارت کے اعداد و شمار بھی یہاں سے حاصل کیے جا سکتے ہیں۔آئی ٹی سی کے اعداد و شمار کے مطابق 2018 میں پاکستان سے انڈیا کو برآمدات کی کل مالیت 383 ملین امریکی ڈالر سے زیادہ رہی

لیکن یہ پاکستان کی برآمدات کا محض دو فیصد ہے۔جبکہ پاکستان نے اسی عرصے میں انڈیا سے جو اشیا درآمد کیں ان کی مالیت ایک عشاریہ نو ارب امریکی ڈالر تھی جو پاکستان کی درآمدات کا محض 3 فیصد تھا۔باقی دنیا کی طرح انڈیا کے ساتھ تجارت میں بھی پاکستان خسارے میں ہے یعنی تجارتی توازن انڈیا کے حق میں ہے۔تاہم پاکستان میں کاروباری ماہرین اور صعنت و تجارت کے شعبوں سے منسلک حکام کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان جن اجناس کی تجارت ہوتی ہے ان کی عدم دستیابی کی وجہ سے دونوں اطراف میں چند صنعتیں اور عام صارفین نقصان اٹھا سکتے ہیں۔پاکستان انڈیا سے سب سے زیادہ جو جنس منگواتا ہے وہ کپاس ہے۔ آئی ٹی سی کے اعدادوشمار کے مطابق 2018 میں پاکستان نے انڈیا سے 466 ملین امریکی ڈالر مالیت کی کپاس درآمد کی۔ سنہ 2014 سے 2018 تک سالانہ چار فیصد اضافے کے ساتھ یہ پاکستان میں کپاس کی درآمدات کا 37 فیصد تھا۔پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر قصور سے تعلق رکھنے والے پیٹرولیم مصنوعات کے کاروبار سے منسلک نور محمد قصوری پاک انڈیا بزنس کونسل کے چیئرمین ہیں۔بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان تجارت کے معطل ہونے سے ٹیکسٹائل یعنی کپڑے کی صنعت میں پاکستان کو نقصان اٹھانا پڑے گا۔’ٹیکسٹائل کی صنعت میں استعمال ہونے والی کپاس اور دیگر ضروری اشیاء ہمیں انڈیا ہی سے سب سے زیادہ سستے داموں اور آسانی سے مہیا ہوتی ہیں۔‘ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی برآمدات میں ٹیکسٹائل کا

حصہ ہی سب سے زیادہ ہوتا ہے۔پاکستان کی طرف سے انڈیا بھیجے جانے والی سب سے بڑی برآمدات چونے کا پتھر، سیمنٹ، نمک، گندھک، استرکاری معدنیات اور دیگر معدنیات شامل ہے۔آئی ٹی سی کے مطابق پاکستان سے انڈیا برآمد کی جانے والی ان اجناس کی مالیت 2018 میں 96 ملین امریکی ڈالر رہی اور پاکستان سے ان اشیاء کی کل برآمدات میں اس کا حصہ 21 فیصد رہا۔صوبہ پنجاب کی وزارتِ صنعت و تجارت کے حکام نے بی بی سی کو بتایا کہ پنجاب کے کئی علاقے ان معدنیات سے مالا مال ہیں جن کی کھپت انڈین پنجاب میں خصوصاً سیمنٹ کی تیاری میں کافی زیادہ ہوتی ہے۔پاکستان کی طرف سے انڈیا کو برآمد کی جانے والی ان معدنیات کی وجہ سے مقامی صنعت اور کاروبار کو فروغ بھی مل رہا تھا اور ایک مارکیٹ دستیاب تھی۔ آئی ٹی سی کے اعداد و شمار بھی اس کی تصدیق کرتے ہیں۔سنہ 2014 سے 2018 کے درمیان پاکستان سے انڈیا ان معدنیات کی برآمد میں سالانہ 17 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔تاہم وزارتِ صنعت کے ایک افسر کا کہنا تھا ’پاکستان اس نقصان کو چین سے آنے والی سرمایہ کاری کے ذریعے پورا کر سکتا ہے۔‘آئی ٹی سی کے مطابق کپاس کے بعد پاکستان نے 2018 میں انڈیا سے سب سے زیادہ نامیاتی کیمیائی مادہ درآمد کیا جس کی مالیت 402 ملین امریکی ڈالر سے زیادہ رہی۔ پندرہ فیصد سالانہ اضافے کے ساتھ یہ شرح پاکستان سے نامیاتی کیمیائی مادے کی درآمدات کا 15 فیصد تھا۔نور محمد قصوری کے مطابق پاکستان انڈیا سے مختلف

صنعتوں میں استعمال ہونے والے رنگ، ڈائیاں اور چمڑے کی صنعت میں استعمال ہونے والے کیمیکلز بھی درآمد کرتا ہے۔آئی ٹی سی کے مطابق پاکستان نے 2018 میں 108 ملین ڈالر کی یہ اجناس انڈیا سے درآمد کیں جو کہ پاکستان میں ان اشیاء کی درآمدات کا 21 فیصد تھا اور اس میں سالانہ پانچ فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔سیمنٹ اور دیگر معدنیات کے بعد انڈیا پاکستان سے جو اجناس زیادہ درآمد کرتا ہے ان میں پھل، خشک میوہ جات، ترش پھلوں کا چھلکا اور خربوز وغیرہ شامل ہیں۔ پاکستان کی طرف سے انڈیا بھیجے جانے والی ان اجناس کی مالیت 2018 میں 93 ملین امریکی ڈالر سے زیادہ رہی۔پاکستان 23 ملین ڈالر کے قریب مالیت کی چینی اور چینی سے تیار ہونے والی مٹھائیاں بھی انڈیا کو برآمد کرتا ہے۔ سنہ 2018 میں ان برآمدات میں سالانہ 368 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا تاہم یہ شرح پاکستان کی کل برآمدات کا پانچ فیصد تھا۔پاکستان ایک زرعی ملک ہونے کے اعتبار سے پھلوں اور سبزیوں میں خاصی حد تک خود کفیل ہے تاہم ماہرین کے مطابق سال کے چند ماہ میں مقامی مارکیٹ میں پیدا ہونے والی کمی کو دور کرنے کے لیے اور غیر موسمی سبزیوں کے حصول کے لیے پاکستان انڈیا سے سبزیاں بھی درآمد کرتا ہے۔آئی ٹی سی کے اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ پاکستان نے 2018 میں انڈیا سے 21 ملین امریکی ڈالر مالیت کی سبزیاں درآمد کیں۔ تاہم یہ شرح 52 فیصد سالانہ کمی کے ساتھ پاکستان سے سبزیوں کی درآمدات کا محض تین فیصد رہی۔ان پانچ اقسام کی اجناس کے علاوہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان دیگر بے شمار اشیا کی تجارت ہوتی ہے جس میں ربر، طبعی آلات، چائے اور کافی، مختلف اجناس کے تیل، لوہا اور سٹیل، صابن اور دیگر اشیا شامل ہیں جن کی کل مالیت یا تجارت کا حجم انتہائی کم ہے۔چیئرمین پاک انڈیا بزنس کونسل نور محمد قصوری کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان اور انڈیا کے درمیان تجارت جاری رہے تو وہ توقع کر رہے تھے کہ آئندہ سالوں میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان ہونے والی تجارت 10 سے 20 ارب امریکی ڈالر کی طرف جائے گی۔ان کا کہنا تھا کہ انڈیا توانائی، صحت، تعلیم اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیر جیسے شعبہ جات میں پاکستان کی مدد کر سکتا ہے۔ دوسری طرف پاکستان اگر اقتصادی زونز اور راہداری تجارت کی سہولت دے تو انڈیا وسطی ایشیائی ممالک تک ہونے والی اپنی تجارت کو بڑھا سکتا ہے۔نور محمد قصوری کا کہنا تھا کہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان تجارت کی معطلی علامتی اور سیاسی نوعیت کی ہے۔ اس کا موجودہ حجم اس قدر کم ہے کہ آئندہ تین سے چار ماہ تک معطلی سے دونوں ممالک پر اس کا زیادہ برا اثر نہیں پڑے گا۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ ان کا ادارہ چند ایسے اقدامات کرنے کا ارادہ رکھتا ہے جن کے ذریعے آنے والے وقت میں دونوں ممالک کے درمیان تجارت کو فروغ ملے گا۔ (بشکریہ : بی بی سی)

اپنا تبصرہ بھیجیں