تاریخ ایک مرتبہ پھر خود کو دہرانے کو تیار۔۔

انقرہ (ویب ڈیسک آن لائن) ترکی وہ ملک ہے جس نے مسئلہ کشمیر پر پاکستان کا سب سے زیادہ ساتھ دیا۔مسئلہ کشمیر پر ترکی کا بیان دنیا کے سامنے واضح ہے۔ترک صدر طیب اردگان نے انقرہ میں ترک سفرا کی عالمی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایک بار پھر کشمیر کا تذکرہ کیا تھا اور دنیا کو یہ
















پیغام دیا کہ کشمیر کے معاملے پر ترکی پاکستان کے ساتھ ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ کشمیر کی خراب ہوتی صورتحال پر میں قریب سے نظر رکھے ہوئے ہوں اور اس پر میں نے پاکستان کے وزیراعظم عمران خان سے ٹیلی فون پر بات کی ہے۔اسی طرح ترک عوام بھی مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے شانہ بشانہ ہے۔اس حوالے سے اردو ترکی نے ایک ٹویٹ کیا ہے ترک فوج کا پاکستانی فوج کے ساتھ کشمیر میں شانہ بشانہ لڑنے کا اعلان۔ترک قوم اور فوج کی پاکستان اور کشمیر کے ساتھ محبت کا جذبہ قابل دید ہے۔


خیال رہے مسئلہ کشمیر کی حالیہ صورتحال پر وزیراعظم عمران خان ترک صدر کو بھی فون کر چکے ہیں۔اس دوران وزیراعظم عمران خان نے ترک صدر کو مقبوضہ کشمیر میں پیدا ہونے والی موجودہ صورتحال سے متعلق آگاہ کیا۔ تفصیلات سے آگاہ ہونے کے بعد ترک صدر طیب اردگان نے بھارتی اقدامات پر شدید تشویش کا اظہار کیا تھا۔۔ ترکی نے مقبوضہ کشمیر کے معاملے پرپاکستان کے موقف کی بھرپور حمایت کرنے کا اعلان کیا تھا۔ترکی کے صدر سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہاکہ بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیرکی خصوصی حیثیت کو تبدیل کرنے کے غیرقانونی اقدامات سے علاقائی امن اورسلامتی پرسنجیدہ اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر تشویش کا اظہارکیا انہوں نے اس ضمن میں ترکی کے مضبوط حمایت اورتعاون کے عزم کا اعادہ کیا۔تاہم اہم ترین مسئلے پر ترک صدر کے ساتھ ساتھ ترک عوام نے بھی پاکستان کا دوست مالک ہونے کا عملی مظاہرہ کر دکھایا۔سوشل میڈیا پر ترک عوام نے مسئلہ کشمیر پر پاکستان کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ایک صارف نے کہا کہ ہم نہ صرف مسئلہ کشمیر پر بلکہ ہر مسئلے پر آپکو سپورٹ کریں گے۔ہم دو ریاستیں ہیں لیکن ایک قوم ہیں۔پاکستان نے جنگ میں ترکی کا جو ساتھ دیا تھا وہ ابھی بھی ہمارے ذہنوں میں تازہ ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں