کشمیر کی بگڑتی ہوئی صورتحال۔۔۔ افغان طالبان بھی میدان میں آگئے، بڑا پیغام کر دیا

کابل (نیوز ڈیسک آن لائن) آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد بھارت کی ریاستی دہشتگردی کشمیر میں بڑھتی جا رہی ہے اور بھارت کی جانب سے مزید فوجیں کشمیر میں تعینات کر دی گئیں ہیں، جبکہ کشمیر میں کرفیو کے باعث اشیاء خوردو نوش کی بھی قلت ہوگئی ہے۔ تحریک طالبان افغانستان کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی


کشیدہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان اور بھارت سے اپیل کی ہے کہ وہ ایسے اقدامات اٹھانے سے گریز کریں جن سے کشمیری عوام کے حقوق تلف ہوں۔تحریک طالبان افغانستان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ رپورٹس آرہی ہیں کہ بھارت کی جانب سے اہلیان کشمیر کو دی جانے والی نیم خودمختاری واپس لی گئی ہے اور علاقے کو فوجیں روانہ کی جاچکی ہیں، ہنگامی حالت نافذ اور وہاں کے مسلمان باشندوں کو مسائل اور تشدد کا سامنا ہے۔اس حوالے سے امارت اسلامیہ گہرے دکھ کا اظہار کرتی ہے، بھارت اور پاکستان سے چاہتی ہے کہ ایسے اقدامات نہ اٹھائیںجن سے علاقے میں تشنج اور مسائل کے لیے راہ ہموار ہوجائے اور کشمیری عوام کے حقوق تلف ہوں۔ترجمان تحریک طالبان نے کہا کہ ہم جنگ وجدل سے تلخ تجربات رکھتے ہوئے علاقے میں آرام اور مسائل کو معقول طریقے سے حل کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ہم ملوث ممالک، اسلامی کانفرنس، اسلامی ممالک، اقوام متحدہ اور دیگر باصلاحیت فریقوں کو بتلاتے ہیں کہ کشمیر میں بدامنی کی روک تھام کے لیے اپنا بااثر کردار ادا کریں، اپنے اثرورسوخ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فریقین کو ترغیب دیں،جس سے فتنے پھیلنے کاسدباب ہوجائے اور موجودہ مسائل کو ٹھنڈے دل اور حوصلے سے حل کریں۔ذبیح اللہ مجاہد نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ چند لوگوں کی جانب سے مسئلہ کشمیر کوافغانستان کے مسائل سے جوڑا جارہا ہے، ایسا کرنے سے صورتحال میں بہتری نہیں آسکتی کیونکہ افغان مسئلے کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے اور افغانستان کو دیگر ممالک کے مقابلے کا میدان نہیں بننا چاہیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں