پہلے نہیں مگر اب اقوام متحدہ چاہے تو کشمیر پر کیا کر سکتا ہے ؟ بھارتی سپریم کورٹ میں ایسا انکشاف جس نے مودی سرکار کے ہوش اڑا دیے

نئی دلی (ویب ڈیسک ) بھارتی سپریم کورٹ کے جسٹس رمانا نے آرٹیکل 370 کے خاتمے کے خلاف دائر ہونے والی درخواست کی فوری سماعت یہ کہہ کر کرنے سے انکار کردیا کہ اس کا فیصلہ چیف جسٹس رنجن گوگوئی کریں گے۔ انہوں نے مقبوضہ کشمیر سے کرفیو ہٹانے کی درخواست کی سماعت سے


بھی انکار کردیا۔ بھارتی حکومت کی جانب سے آئین کے آرٹیکل 370 کے خاتمے کے خلاف منوہر لال شرما ایڈووکیٹ نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ انہوں نے سپریم کورٹ میں موقف اپنایا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں دفعہ 370 کو ختم کئے جانے کا مرکزی حکومت کا فیصلہ غیر آئینی ہے، پاکستان اقوام متحدہ میں اس اقدام کو چیلنج کرنے جا رہا ہے،ایسا نہ ہو کہ ہندوستان کو جموں کشمیر سے ہمیشہ کیلئے ہاتھ دھونے پڑجائیں۔کیس کی سماعت کرنے والے جسٹس رمانا نے استفسار کیا کہ کیا اقوام متحدہ بھارت کی آئینی ترمیم کو روک دے گا؟ جس پر درخواست گزار نے کہا کہ اقوام متحدہ کے پاس ایسا اختیار نہیں ہے۔ ابتدائی سماعت کے بعد جسٹس رمانا نے درخواست کی فوری سماعت سے انکار کردیا اور کہا کہ اس کی سماعت کیلئے تاریخ چیف جسٹس رنجن گوگوئی مقرر کریں گے۔جسٹس رمانا کے سامنے مقبوضہ کشمیر سے کرفیو ہٹانے اور نظر بند رہنماﺅں کی رہائی کے حوالے سے درخواست بھی پیش کی گئی جو تحسین پونے والا نے دائر کی تھی ۔ جسٹس رمانا نے اس درخواست پر بھی یہ کہہ کر سماعت سے انکار کردیا کہ اس کا فیصلہ چیف جسٹس رنجن گوگوئی کریں گے۔ کیلئے تاریخ چیف جسٹس رنجن گوگوئی مقرر کریں گے۔جسٹس رمانا کے سامنے مقبوضہ کشمیر سے کرفیو ہٹانے اور نظر بند رہنماﺅں کی رہائی کے حوالے سے درخواست بھی پیش کی گئی جو تحسین پونے والا نے دائر کی تھی ۔ جسٹس رمانا نے اس درخواست پر بھی یہ کہہ کر سماعت سے انکار کردیا کہ اس کا فیصلہ چیف جسٹس رنجن گوگوئی کریں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں